پارلیمنٹ میں اشرافیہ کے کنٹرول کی وجہ سے بدعنوانی ہے؛بیرسٹر عامر حسن
کرپشن ہر دور میں رہی ہے، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتاتاہم معاشی اعشارے بہترہورہے ہیں، قمر الاسلام راجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آج بھی زیادہ تر جو نمائندگی ہے وہ اشرافیہ کی ہے اور اشرافیہ کے کنٹرول کی وجہ سے بدعنوانی ہے اور بدعنوانی کو ختم کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ عام لوگوں کو حق نمائندگی دیا جائے۔
24نیوز کے پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما بیرسٹر عامر حسن نے کیا کہ کرپشن پاکستان کا المیہ رہا ہے لیکن ہم اسے اب تک بہتر نہیں کر سکے ہیں، معاشی صورتحال پہلے سے بہتر ہے جس کا ذکر آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں بھی کیا ہےلیکن ابھی حکومت کی کارکردگی کے ثمرات عوام تک منتقل نہیں ہوئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ٹیکس بھی زیادہ جمع کیا ہے ۔جیسا کہ رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہی ہمارے دو بڑے مسئلے ہیں ایک بدعنوانی اور دوسرا اشرافیہ کا کنٹرول اور اشرافیہ کے کنٹرول کی وجہ سے ہی بدعنوانی ہے ،ان کاکہناتھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی طاقت کا سرچشمہ عوام کو سمجھتی ہے اور پیپلزپارٹی نے حق نمائندگی ہمیشہ غریب آدمی کو دیا ہے لیکن 1985 کے بعد ایک ایسا دور آیا ہے جس میں سمجھا گیا ہے کہ جاگیردار کو اور اشرافیہ کو ٹکٹ دیا جائے تو وہ جیت جائے گا اور کہیں پیپلزپارٹی نے بھی رخ اپنا تبدیل کیا ہے، اس کے باوجود پیپلز پارٹی سب سے زیادہ نمائندگی عام آدمی کو دیتی ہے ۔لیکن پارلیمنٹ میں آج بھی زیادہ تر جو نمائندگی ہے وہ اشرافیہ کی ہے اور اشرافیہ کے کنٹرول کی وجہ سے بدعنوانی ہے اور بدعنوانی کو ختم کرنےکیلئے یہ ضروری ہے کہ عام لوگوں کو حق نمائندگی دیا جائے۔
پروگرام میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما قمر الاسلام راجہ نے کہا کہ کرپشن ہر دور میں رہی ہے اور آج بھی ہو رہی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتالیکن معیشت کے اور بھی بہت سے انڈیکیٹر ہیں جو انٹر نیشنل ادارے کہہ بھی رہے ہیں سٹاک ایکس چینج ،فارن ریمیٹنس ،انٹرسٹ ریٹ آدھا رہ گیا ہے ان سب چیزوں کو دیکھا جائے تو ایک بہت بڑی ڈویلپمنٹ ہے، ایک وقت تھا جب آئی ایم ایف قرض دینے سے انکاری تھا اور اس میں بھی تحریک انصاف ذمہ دار تھی ،آج اسی رپورٹ میں جس میں کرپشن کی بات کی گئی ہے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر اس کو بتائی گئی اصلاحات کر لی جائیں تو پاکستان کی گروتھ 6.5 فیصد تک ہو سکتی ہے ۔
پروگرام میں شریک تحریک انصاف کے رہنما امجد علی نیازی نے کہا کہ آج جو رپورٹ سامنے آئی ہے آئی ایم ایف کی اس میں تمام بیماریاں بتائی گئی ہیں اور ان کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس وقت برسر اقتدار ہیں، اس سے پہلے بھی ایک ورلڈبینک کی رپورٹ آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ 12 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے اور ڈھائی کروڑ عوام بیروزگار ہوچکی ہے ،پچھلے تین سال میں ٹیکسٹائل انڈسٹری 30 فیصد بند ہوگئی ہے اور لوگ باہر جا رہے ہیں ۔اس وقت گورنمنٹ نے معیشت ،امن و امان ،پولیٹیکل اسٹیبلٹی کیلئے کوئی کام کیا ہو ،سوائے این آر او لینے سٹاک ایکسچینج تو ترقی کر رہا ہے لیکن عام آدمی ایک وقت کی روٹی کھانے سے بھی محروم ہو گیا ہے ۔