عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت منظور،رہائی کا حکم

Aug 21, 2025 | 12:25:PM
عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت منظور،رہائی کا حکم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری)سپریم کورٹ نے  9 مئی کے 8 مقدمات میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 9 مئی کے مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کی۔

قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں کیس سننے والے بینچ میں تبدیلی کی گئی اور تین رکنی بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی جگہ جسٹس حسن اظہر رضوی کو شامل کیا گیا۔

وکیل بانی پی ٹی آئی نے عدالت کو بتایا کہ تمام 8 مقدمات میں فرد جرم تک عائد نہیں کی گئی، مقدمات میں ابھی تک چالان بھی پیش نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بس یہ کافی ہے، ہم ضمانت منظور کر رہے ہیں۔

عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ  بانی پی ٹی آئی عمران خان کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو  رہائی کا حکم دیا جاتا ہے۔

دوران سماعت سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ کل طبیعت ناسازی کے باعث پیش نہیں ہو سکا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کوئی بات نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا آپ دونوں سے عدالت کے دو سوالات ہیں، لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھا ہو گا۔

پہلا سوال! کیا ضمانت کیس میں حتمی فائنڈنگ دی جا سکتی ہے؟

دوسرا سوال! ماضی میں سازش کے الزام پر سپریم کورٹ نے ملزمان کو ضمانت دی، کیا تسلسل کا اصول اس کیس پر اپلائی ہوگا؟

سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا ضمانت کیس میں عدالت کی آبزرویشن ہمیشہ عبوری نوعیت کی ہوتی ہے، عدالتی آبزرویشن کا ٹرائل پر کوئی فرق نہیں پڑتا، سپریم کورٹ نے ضمانت سے متعلق گائیڈ لائنز دی ہوئی ہیں جو کبھی فالو ہوتی ہیں کبھی نہیں ہوتیں۔

پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے سپریم کورٹ کا ضمانت سے متعلق فیصلہ پڑھا۔سپیشل پراسیکیوٹر نے اعجاز احمد چوہدری کیس میں ضمانت منظوری کا فیصلہ عدالت میں پڑھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ میں سازش سے متعلق کیسز میں ضمانت مسترد ہونے کے فیصلے پڑھ کر آئیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپیشل پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کیس میں سازش کی بات کرتے ہیں، کوئی ایسا کیس ہے جس میں سازش ہوئی ہو اور ضمانت مسترد ہوئی ہو؟

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا حال ہی میں سپریم کورٹ میں جتنے سازش سے متعلق کیس آئے ان میں ضمانت منظور ہوئی ہے، سپریم کورٹ نے ایسے ہی الزام کے 3 کیسز میں ضمانتیں منظور کی ہیں، اپنے کیس کو سازش سے متعلق دیگر کیسز سے الگ ثابت کریں۔

سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا سپریم کورٹ میں سازش سے متعلق ضمانت منظور ہونے والےکیسز میں ثبوت نہیں ہوں گے، موجودہ کیس میں سوشل میڈیا پر سازش سے متعلق ثبوت موجود ہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا آپ لوگوں نے ضمانت کی سٹیج پر میرٹ پر بات نہیں کرنی۔

عمران خان کے وکیل سلمان صفدر بولے میرے پاس سازش سے متعلق ضمانت کے تمام کیسز موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے سپیشل پراسیکیوٹر کوضمانت مسترد سے متعلق فیصلے کی تفصیلات دینے کی ہدایت کی اور کہا پراسیکیوٹر سپریم کورٹ کے ایسےکیس کا حوالہ دیں کہ سازش کے الزام میں ضمانت منسوخ ہوئی ہو۔

استغاثہ ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ان میں نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھے، جس پر چیف جسٹس نے کہا سازش کے جرم کے مقدمات میں ضمانت نہ دینا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کیس کے میرٹس پر کسی فریق کو نہیں سنیں گے، دونوں فریقین سمجھ لیں کیس کے مرکزی حقائق پر بات نہیں کرنے دیں گے، میرٹس ٹرائل کورٹ نے خود طے کرنے ہیں۔

سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2014 میں ایک فیصلے میں فریم ورک طے کیا، فیصلے میں قرار دیا گیا ضمانت کیس میں دی گئی آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہوتی ہیں، 1996 اور 1998 میں یہی اصول اپنایا گیا کہ ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز عارضی ہوتی ہیں۔

ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا عدالتی فیصلوں میں قرار دیا گیا کہ ضمانت میں دی گئی آبزرویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کرتیں، 2022 میں محمدرفیق بنام اسٹیٹ کیس میں بھی یہی اصول طے کیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کیا  آپ کے پاس ملزم کے خلاف ثبوت موجود ہے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے کہا 3 گواہان کا بیان ہے، فوٹو  گریمیٹک، وائس میچنگ ٹیسٹ موجود ہے۔

پراسیکیوٹر ذوالفقارنقوی نے کہا واٹس ایپ میسجز موجود ہیں، ہائیکورٹ نےکہا تھا ٹرائل کورٹ میں مختلف ٹیسٹ کےحوالے سے درخواست دیں، ٹرائل کورٹ نے ٹیسٹ لینے کی اجازت دی لیکن جیل میں ملزم نے تعاون نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد 9 مئی کے 8 مقدمات میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کر لی۔