سیلاب سے نقصانات، جب تک لاٹھی سر پر نہ پڑے، ہم سوچنے کیلئے تیار نہیں ہوتے:سلیم بخاری

Aug 21, 2025 | 00:22:AM
سیلاب سے نقصانات، جب تک لاٹھی سر پر نہ پڑے، ہم سوچنے کیلئے تیار نہیں ہوتے:سلیم بخاری
سورس: 24News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کراچی سمیت ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فطرت ہے کہ جب تک لاٹھی سر پر نہ پڑے سوچنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے ہیں۔

سلیم بخاری شو میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کہاوت مشہور ہے کہ انگریز پچاس سال  پہلے سوچنا شروع کردیتا ہے جبکہ بنیا (ہندو) وقت آنے پر سوچتا ہے۔

 انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ راوی نے لاہور کو ڈبو دیا تھا  اور پھر اس کے بعد پلاننگ کی گئی اور راوی کے گرد بند باندھ کر پانی کو کنٹرول کر لیا گیا تھا جس  کی وجہ سے شہر محفوظ ہو گیا جہاں قدرتی آفات سے بچنے کے لیے متوقع فیصلے کیے جائیں وہاں ہی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

سلیم بخاری نے حکومت اور اپوزیشن کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ  سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ لوگوں کی جانوں کو محفوظ بنانے کی پلاننگ کریں تاکہ آئندہ اس قسم کی قدرتی آفات سے عوام کو بچایا جاسکے۔

معروف تجزیہ کار نے کہا کہ قدرتی آفات سے بچاو کےلیے قائم کیے گئے اداروں کو  نارمل دنوں میں ٹھوس اقدامات اُٹھانے  چاہیں تاکہ جب اس قسم کے حالات متوقع  ہوں  تو عوام کی قیمتی جانوں کو ضیاع سے بچایا جاسکے ۔

سلیم بخاری نے کہا کہ کلائمیٹ چینج ایک نئی چیز ہے، اس کی وجہ  ٹمبر مافیا کوقرار دیا اور کہا کہ ملک میں اگر شجر کاری مناسب ہو اور درختوں کی کٹائی کو قابو کیا جائے تو ماحول پر بہتر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔دوسرا ندی، نالوں ،دریاوں اور آبی گزر گاہوں کے بیچ میں ہوٹل اور گھر نہ بنانے دئے جائیں تو بھی جانی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے فیصلے پر انھوں نے کہا کہ اس فیصلے پر پارٹی کے اندر بہت لے دے  ہوئی ہے ، پارٹی کے ورکرز نے بہت ماریں کھا ئی ہوئی ہیں،  یہ ان کا حق ہے، محمود اچکزئی وہی ہیں نا جن کی نقلیں خان صا حب اتارا کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اچکزئی کی نامزدگی واحد مثال نہیں ہے اس سے قبل شیخ رشید اور  چوہدری پرویز الہیٰ بھی ہیں ۔انہوں نے کہا  بانی اپنی عادت سے مجبور ہیں  وہ یو ٹرن لیتے رہتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس کی ایک اور مثال علیمہ خان  کاجیل سے آکر پیغام دینا ہے  کہ بانی نے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے لیکن جو  کل ملاقات ہوئی  پھر یو ٹرن لیتے ہوئے پارٹی کی سیاسی کمیٹی کو سیاسی انداز میں  معاملات دیکھنے کا کہا ہے ،اس کا مطلب ہے کہ سیاسی کمیٹی دیکھے کہ کس طرح کرنا ہے۔

سلیم بخاری نے وزیر خارجہ اسحاق ڈارکے  سہ فریقی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کیلئے افغانستان کے دارالحکومت کابل  کے دورہ پر رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان تجارت، علاقائی روابط اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی ہے ۔ تینوں فریقوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے کا عزم کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :وزیر خارجہ اسحاق ڈار سہ فریقی مذاکرات میں شرکت کیلئے کابل پہنچ گئے