کسی قتل میں ملوث نہیں، سیاسی مخالفت پر عزت کو اُچھالا جا رہا ہے:نعیم اعجاز
Stay tuned with 24 News HD Android App
( 24نیوز) مسلم لیگ ن کے پارلیمانی سیکرٹری پنجاب نعیم اعجاز نے کہا ہے کہ میں کسی قتل میں ملوث نہیں ہوں، مخالفین پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں ، سیاسی مخالفت کی وجہ سے میرے نام اور عزت کو اُچھالا جا رہا ہے۔
قتل کیس میں ضمانت کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری موقع پر2 ہزار کنال جگہ ہے، ان کے نام دس مرلے جگہ ہے، متعدد بار ان کو کہا جہاں آپ کو جگہ چاہئے لے لیں، کل ہم دونوں بھائی گاؤں ہی نہیں گئے۔
انھوں نے کہا کہ ثقلین وغیرہ سہال چوک میں ڈنڈے لیکر کھڑے ہوگئے، ثقلین نے ہمارے ملازمین کی گاڑی روکی اور ملازم کو تشدد کا نشانہ بنایا، ہمارا کوئی ملازم مسلح نہیں تھا،ملازم کے مطابق انکے ہی بندے نے فائرنگ کی ،ہمارے بندے کے پاؤں پر بھی گولی لگی ہے،ہم نے بھی پولیس کو درخواست دی ہے۔
نعیم اعجاز کے مطابق ہمیں واقعہ کے 45منٹ بعدعلم ہوا،مقدمہ میں مخالفین نے مجھ سمیت ندیم اعجاز پر الزام لگایا جو قتل ہوا وہ قیمتی جان تھی،اس کیس میں ہماری پارٹی،فیملی کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، ہم نے اپنے ملازمین کو خود پولیس کے حوالے کیا،گاڑی بھی تھانے میں موجود ہے۔آئی جی پنجاب،آرپی او،سی پی او سے اپیل ہے کہ حق سچ پر انکوائری کریں،تمام حقائق سامنے آجائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے کوئی رابطہ نہیں کیا،اب تمام واقعہ کا میسج سینئر قیادت کو بھیجوں گا پارٹی کی سینئر قیادت سے اپیل کروں گا کہ انکوائری کروائیںہم نے کبھی کسی افغانی کو اپنے پاس ملازمت پر نہیں رکھا،ہماری سائیٹس پر ٹرالر چلانے والے 5افغان شہری نکلے تھے ،انھیں بھی وہاں سے نکلوا دیا تھا۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی نعیم اعجاز کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، نعیم اعجاز کے خلاف مقدمہ مقتول محمد حسنین کے بھائی محمد ثقلین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق 20 روز قبل زمینوں پر قبضے پر ایم پی اے چوہدری نعیم کے خلاف احتجاج کیا تھا، احتجاج کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کی اور لوہے کے راڈ سے تشدد کیا۔مقدمہ کے مطابق ہسپتال منتقلی کے دوران محمد حسنین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، ملزمان نے رکن پنجاب اسمبلی نعیم اعجاز کی ایماء پر فائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت اختتام