اسرائیلی فوج نے غزہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد جنگ بندی معاہدہ بحال کردیا

Oct 20, 2025 | 09:18:AM
اسرائیلی فوج نے غزہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد جنگ بندی معاہدہ بحال کردیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک )جارح اسرائیل نے سیز  فائر  معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے دوران درجنوں فلسطینیوں کو  شہید کرنےکے بعد  جنگ بندی  کے نفاذ پر پھر سے عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

 اسرائیلی فوج نے غزہ میں سرنگوں سمیت حماس کے درجنوں اہداف پر 120 راکٹ حملے کیے، اسرائیلی فوج نے حماس کا بہانہ بنا کر  غزہ میں شہری آبادی کو  بھی نشانہ بنایا۔

قابض فوج کی جانب سے خان یونس کے شمال مغربی علاقے میں  بے گھر افراد کے خیموں  اور  غزہ کے نصیرات کیمپ پر  بھی بمباری کی گئی۔ 

جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کے غزہ پر فضائی حملوں میں کل صبح سے اب تک 45 فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کیا تاہم 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ میں 98 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:افغان باشندےسکیورٹی کیلئے خطرہ ،ملک بدر کیا جائے، 20ممالک کا یورپی کمیشن کو خط

اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ حملے حماس کی جانب سے ان کے اہلکاروں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے  تاہم حماس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا کہ اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔

غزہ میں 45 فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد اسرائیلی فوج نے تازہ بیان جاری کیا کہ حماس کے اہداف پر  فضائی حملوں کے بعد غزہ میں جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔

 دوسری جانب  حماس رہنما خلیل الحیہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد قاہرہ پہنچ گیا جہاں وہ رواں ماہ شرم الشیخ میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے پر  عمل درآمد کے معاملات پر مصری حکام  کے ساتھ بات چیت کرے گا۔

 ادھر  امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کُشنر آج اسرائیل پہنچیں گے جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو اسرائیل پہنچیں گے۔

رپورٹس کے مطابق تینوں امریکی حکام اپنے دورے کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے امریکی فریم ورک کو آگے بڑھایا جا سکے۔