سرکاری ملازمین کو دھمکی دینے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن میں طلب

الیکشن کمیشن نے ہری پور این اے 18 ضمنی انتخاب کے پرامن انعقاد کےلیے فوج کو طلب کرلیا

Nov 20, 2025 | 14:27:PM
سرکاری ملازمین کو دھمکی دینے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا الیکشن کمیشن میں طلب
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عثمان خان )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حویلیاں جلسے میں سرکاری ملازمین سے متعلق دھمکی آمیز بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں جمعہ کو طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کو موصول ہونے والی مانیٹرنگ رپورٹ میں وزیراعلیٰ کے بیان کو ضابطہ اخلاق کی ممکنہ خلاف ورزی قرار دیا گیا، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی تجویز سامنے آئی ہے۔

اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے آج صبح ساڑھے گیارہ بجے ایک اہم اجلاس طلب کیا، اجلاس میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

اس دوران الیکشن کمیشن کے لیگل ونگ نے وزیراعلی خیبر پختوانخواہ سہیل آفریدی کیخلاف کارروائی کی تجویز دی۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا کے حلقے میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن عملے کو دھمکیاں دیں، جس کے بعد ضمنی انتخاب کا پُرامن انعقاد خطرے میں پڑ گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ جلسے کے اسٹیج پر ایک مفرور ملزم کی موجودگی نہایت تشویشناک ہے، اور یہ صورتحال ضلعی انتظامیہ، پولیس، الیکشن اسٹاف اور ووٹرز کی سیکیورٹی کو براہ راست خطرے میں ڈال رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انڈونیشیا میں زلزلے کے شدید جھٹکے ، لوگوں میں خوف و ہراس

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا سے ملاقات کریں اور حلقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیں،کمیشن نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کی تفصیلی رپورٹ فوری طور پر مرکزی الیکشن کمیشن کو بھجوائی جائے۔

اسی دوران الیکشن کمیشن نے شہرناز عمر ایوب کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سمیت دونوں کو کل طلب کر لیا ہے، تاکہ صورتحال پر وضاحت طلب کی جا سکے۔

کمیشن نے وزارتِ داخلہ کو بھی احکامات جاری کیے ہیں کہ حلقے میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے، جبکہ ڈی آر او، آر او، انتخابی عملے اور ووٹرز کی نقل و حرکت کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اگر دھمکیوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو ضمنی انتخاب کا شفاف اور پُرامن انعقاد شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

واقعہ اس وقت سامنے آیا جب سہیل آفریدی نے حویلیاں میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ضمنی الیکشن ڈیوٹی پر مامور سرکاری ملازمین اور پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے سخت جملے کہے، انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر الیکشن کے دن کسی قسم کی بدمزگی ہوئی تو وہ “رات تک عہدوں پر نہیں رہیں گے۔”

مزید پڑھیں:ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 33 کروڑ ڈالر کے قرض کی منظوری دیدی

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نےوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت حلقے کے دیگر امیداروں کو بھی طلب کیا ہے، الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کل سماعت کرے گا۔

تقریر میں سہیل آفریدی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 23 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار عمر ایوب کی اہلیہ “دو لاکھ ووٹ لے کر کامیاب ہوں گی۔”

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے۔

ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کسی کو دھمکی نہیں دی بلکہ قانون کے نفاذ کی بات کی تھی۔

ترجمان نے اسے محض “سیاسی پوائنٹ اسکورنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر قیمت پر شفاف اور غیر جانبدارانہ ضمنی انتخابات یقینی بنائے گی۔

علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے ہری پور این اے 18 ضمنی انتخاب کے پرامن انعقاد کےلیے فوج کو طلب کرلیا۔

الیکشن کمیشن نے 23 نومبر کو پولنگ کے روز فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی مانگ لی، الیکشن کمیشن نے فوج کی تعیناتی کے لیے سیکرٹری دفاع کو خط لکھا۔

الیکشن کمیشن حکام نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے جلسے میں اشتعال انگیز تقاریر پر تشویش کا اظہار کیا۔

خط کے متن کے مطابق وزیراعلیٰ کی تقریر سے انتخابی افسران کو دھمکیاں اور خوف کا ماحول پیدا ہوا، وزیراعلیٰ کی جارحانہ  زبان سرکاری افسران کے کام میں رکاوٹ بن سکتی ہے، انتخابی عملے اور عوام کی جان کو خطرات کا خدشہ کے باعث فوج طلب کرنےکی سفارش کی گئی ہے۔