مشتعل افراد نے وزیر داخلہ سندھ کے گھر کو آگ لگادی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اقصیٰ شاہد / عاجز جمالی ) کینال منصوبے کے خلاف مورو میں قوم پرست جماعت کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے جہاں احتجاج کے دوران مورو میں مشتعل افراد نے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کے گھر کو آگ لگادی۔
مظاہرین نے کئی کنٹینرز بھی نذر آتش کردیے، قومی شاہراہ پر مشتعل مظاہرین نے ایچ ایس او سمیت پولیس اہلکاروں پر تشدد بھی کیا،مظاہرین ٹریلر سے کھاد کی بوریاں بھی لوٹنے لگے، مشتعل مظاہرین کھاد کی بوریاں لوٹ کر موٹر سائیکل پر لے گئے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایس ایس پی نوشہروفیروز سے واقعے کی تفصیلات طلب کرلیں،انہوں نے کہا کہ قانون کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف آہنی اقدامات کیے جائیں،ضلعی سطح پر مزید تازہ دم دستوں، پولیس کمک کو حرکت میں لایا جائے،ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے والے شرپسندوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی پی پی شہید بینظیرآباد کے ڈویژنل صدر اور سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار کے گھر پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے اس واقعے کو دہشت گردی کے مترادف قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ احتجاج کی آڑ میں شرپسندی کرنے والوں کے مذموم عزائم اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں جو کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے،بلاول بھٹو زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بدامنی پھیلانے والے سازشی عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے،انہوں نے کہا کہ ایسے حملے صرف فرد یا جماعت پر نہیں بلکہ امن و امان اور ریاستی عملداری پر حملہ ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلزپارٹی اپنی قیادت اور کارکنوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی، اور شرپسند عناصر کو ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
ترجمان سندھ حکومت عقربہ فاطمہ نے مورو میں وزیر داخلہ کے گھر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قانون شکنی کی انتہا قرار دیا ہے، ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اور سندھ حکومت کسی صورت خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔
عقربہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ ذاتی رنجش یا سیاسی اختلاف کی آڑ میں گھروں کو جلانا ناقابلِ قبول عمل ہے، اور ایسے واقعات سندھ کی پرامن فضا کو آلودہ کرنے کی دانستہ کوشش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں منصوبوں پر اعتراض کرنا ہر شہری کا حق ہے، مگر تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے اور حکومت انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سندھ میں انتشار پھیلانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور عوامی قیادت کو نشانہ بنانا نہ صرف ریاست بلکہ عوام پر بھی حملہ ہے۔ سندھ حکومت شہریوں اور عوامی نمائندوں کے تحفظ کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: 91 فیصد پاکستانیوں نے سیز فائر معاہدے کو درست قرار دیا، گیلپ پاکستان