پاکستان اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے،عاصم افتخار

ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے صورتحال مزید بگڑ چکی ہے، اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب

Jun 20, 2025 | 23:54:PM
پاکستان اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے،عاصم افتخار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑ چکی ہے، اس سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں,پاکستان اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے، پرامن مقاصد کے لیے بنائے گئے جوہری تنصیبات پر حملے انتہائی تشویشناک ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایران اسرائیل تنازعہ کے حوالے سے ہونیوالے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مستقل مندوب  عاصم افتخار احمد نے کہا ہےکہ آپ نے اس دور کو فیصلہ کن لمحہ قرار دیا اور اجتماعی مستقبل اور اجتماعی ذمہ داری کی بات کی جس سے مکمل طور پر متفق ہوں,آپ کی لڑائی ختم کرنے اور مذاکرات کی طرف لوٹنے کی اپیل قابل تحسین ہے,پچھلے جمعہ کو کونسل کا ہنگامی اجلاس اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر بلایا گیا, ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑ چکی ہے, اس سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں, پاکستان اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے,ہم ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں,ہم اسرائیل کے ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو پورے خطے اور اس سے باہر کے امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں,  ہم ایرانی بھائیوں کی جانی نقصان پر دلی تعزیت اور ہمدردی پیش کرتے ہیں, انسانی جانوں کا ضیاع قابل افسوس ہے, بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری سب پر لازم ہے۔ 

پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ پرامن مقاصد کے لیے بنائے گئے جوہری تنصیبات پر حملے انتہائی تشویشناک ہیں,یہ حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور، آئی اے ای اے کے آئین اور جنرل کانفرنس کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں, آئی اے ای اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی قانونی رائے واضح طور پر دے, اور سلامتی کونسل و بورڈ آف گورنرز کو ان حملوں کے قانونی، حفاظتی اور سلامتی اثرات سے آگاہ کرے,ایجنسی کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہیے,موجودہ بحران نے خطے کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے,  جو کہ غزہ پر اسرائیل کے بے رحمانہ حملے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے, جس نے معصوم فلسطینیوں کے لیے بے مثال انسانی المیہ جنم دیا ہے،نیز اسرائیل کی شام، لبنان اور یمن میں بھی بار بار بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے, سلامتی کونسل کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اس بے لگام جارحیت کو فوری طور پر روکے اور حملہ آور کو اس کے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرائے,اس مقصد کے لیے کونسل کو مندرجہ ذیل اقدامات کرنا چاہئیں,اسرائیل کے 13 جون  سے ایران پر حملوں کی واضح مذمت اور ان تمام اقدامات کی مخالفت جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف ہیں,جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرے تاکہ بحران مزید نہ بڑھے اور پورے خطے کے امن کو خطرہ لاحق نہ ہو, آئی اے ای اے کی محفوظ کردہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کرے, جیسا کہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا کنونشنز 1949 میں درج ہے,سلامتی کونسل کو اپنی قرارداد 487 پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔
عاصم افتخار احمد  نے مزید  کہا کہ بات چیت اور سفارتکاری کو فروغ دے کر بحران کا پُرامن اور دیرپا حل تلاش کیا جائے اور سفارتکاری کو موقع دیا جائے,افسوس کی بات ہے کہ اسرائیل کے غیر قانونی حملے اس وقت ہوئے جب ایران کے جوہری مسئلے پر سفارتی کوششیں عروج پر تھیں, ان غیر قانونی اقدامات کو مذاکرات سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی, تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر فوری واپس آنا چاہیے,ہم امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی خواہش اور E3 اور ایران کے درمیان مکالمے کا خیرمقدم کرتے ہیں, امید ہے کہ یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی, ہم اپنے دیرینہ موقف کی توثیق کرتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام مسائل کو پُرامن طریقے سے، مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،  جس میں تمام فریقین کے حقوق، بین الاقوامی ذمہ داریاں اور فرائض شامل ہوں,اسی کے ساتھ ساتھ، آئی اے ای اے کو اپنی تصدیقی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنی چاہئیں,ایجنسی کو غیرجانبدار اور غیرسیاسی انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں تاکہ حقائق پر مبنی اور قابل اعتماد معلومات فراہم کی جا سکیں,  یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ سلامتی کونسل کو اپنی ذمہ داری نبھانااور تنازعات کا پُرامن حل تلاش کرنا چاہیے, فوجی طاقت یا جبر سے دیرپا حل ممکن نہیں ہیں, بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی مکمل پاسداری کے ساتھ مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں, کونسل کو سیکرٹری جنرل کی لڑائی ختم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی اپیل کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور سمیت پنجاب میں موسم گرم، شمالی علاقہ جات میں آندھی، بارش متوقع