ستھرا پنجاب،دنیا کا سب سے بڑا صفائی کا نظام

از:سیف اعوان

Feb 20, 2026 | 12:54:PM
ستھرا پنجاب،دنیا کا سب سے بڑا صفائی کا نظام
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

صفائی نصف ایمان ہے یہ ہمارے ایمان کا لازمی جز ہے ہمارا مذہب ہمیں صاف ستھرا رہنے کی تلقین کرتا ہے،گھر کو صاف ستھرا رکھنے میں ایک ماں،بہن اور بیٹی کا سب سے اہم رول ہوتا ہے۔

 کسی بھی گھر کی خوبصورتی اور صفائی کو دیکھ کر یقینی طور پر ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آتا ہے کہ اس گھر کے مقیم بہت نفیس اور صفائی پسند ہیں، گھر کو خوبصورت بنانے اور صاف ستھرا بنانے میں ایک عورت کا ہی بنیادی رول ہوتا ہے۔

 اگر محلے،شہر اور صوبے تک کی بات کریں تو اس کو صاف ستھرا بنانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس کے ساتھ اتنی ہی ذمہ داری یہاں رہنے والے شہریوں کی بھی ہوتی ہے کہ وہ کتنے صفائی پسند ہیں اپنے استعمال شدہ ویسٹ کو گلی محلوں میں پھینکتے ہیں یا ڈسٹبن میں جا کر پھینکتے ہیں۔

اس ڈسٹبین کو صاف کرنے اور کوڑا اٹھانے کی ذمہ داری حکومتی اداروں کی ہوتی ہے، گلی محلوں اور شہروں کی صفائی کے انتظامات یقینی طور پر بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو افرادی قوت اور سرمایہ بھی زیادہ چاہیے ہوتا ہے۔

 پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے شہر بھی زیادہ ہیں، یقینی طور پر یہاں کوڑا کرکٹ بھی اتنی ہی بڑی تعداد میں ہوتا ہے۔اتنے بڑے آبادی والے صوبے کے کوڑا کٹ کو اٹھانے اور اس کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا اور مشکل ٹاسک ہوتا۔

پنجاب میں بہت سی حکومتیں آئی ہیں لیکن کسی بھی حکومت نے صوبے کو خوبصورت بنانے اور صاف ستھرا بنانے پر کبھی اس لیول پر فوکس نہیں کیا جتنا موجودہ پنجاب حکومت اس پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے ستھرا پنجاب پروگرام کی آج عالمی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ مریم نواز کا ذاتی طور پر اس منصوبے کو لیڈ کرنا ہے، مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب بنتے ہی عید الضحی آئی اس میں پورے پنجاب میں جانوروں کی بڑے پیمانے پر قربانی ہوتی ہے۔

پنجاب حکومت نے پہلی مرتبہ بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں اور دہی علاقوں تک جانوروں کی الائشیں بھی اٹھائیں اور سڑکوں کو عرق گلاب سے غسل دیا۔عید کے تین دن سڑکوں پر قربانی کے جانوروں کی کسی قسم کی بدبو نہیں آئی جس کے بعد ستھرا پنجاب پروگرام کو ملک گیر سطح پر پذیرائی ملنے لگی۔

 وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے ستھرا پنجاب پروگرام کومزید وسعت دی، صرف پنجاب حکومت کے اس ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صوبے میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد نئی نوکریاں پیدا ہوئیں۔

اس وقت ستھرا پنجاب پروگرام میں صوبے بھر میں ایک لاکھ39 ہزار 413 ورکر اور 2418 انتظامی افسران کام کر رہے ہیں جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے پاس 29 ہزار 131 گاڑیاں ہیں،آلات اور مشینری کی تعداد 2 لاکھ 86 ہزار 751 ہے جبکہ 44 ہزار ویسٹ انکلوژر اور 409 عارضی کلیکشن پوائنٹ ہیں 143 لینڈ فل سائٹس ہیں۔

ستھرا پنجاب پروگرام کے آغاز سے اب تک ویسٹ مینجمنٹ کا عملہ 95 لاکھ ٹن سے زیادہ ویسٹ ٹھکانے لگا چکا ہے، ستھرا پنجاب پروگرام نے باقاعدہ ایک ہیلپ لائن 1139 جاری کی ہوئی ہے جس پر پنجاب کے شہری اب تک تین لاکھ 39 ہزار 717 شکایات درج کروا چکے ہیں جن میں تین لاکھ 3493 شکایات پر فورا ایکشن لیا گیا جبکہ باقی شکایات کو ایک ہفتے کے اندر حل کر دیا گیا۔

پہلے ویسٹ مینجمنٹ کی کمپنیاں صرف دو تین پنجاب کے بڑے شہروں میں کام کر رہی تھی اب اس کا دائرہ کار پورے پنجاب تک پھیل چکا ہے، یہ صفائی کا ایک ہی چھتری تلے دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے جس کے تحت صوبے بھر کے ہر شہر اور گاؤں میں صفائی کا یکساں نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔

 ستھرا پنجاب پروگرام کو بی بی سی،بلوم برگ،خلیج ٹائمز، نیویارک ٹائمز سمیت دنیا کے کئی بڑے اور نامور میڈیا ہاؤسز اس منصوبے کی کارکردگی کے معترف ہیں۔برطانیہ کا شہر برہنگم بھی ستھرا پنجاب پروجیکٹ سے مستفید ہو چکا ہے، یہ مریم نواز کے ستھراپنجاب پروجیکٹ کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مریم نواز پنجاب کو ایسے ہی صاف ستھرا بنا رہی ہیں جیسے ایک بیٹی گھر کو صاف رکھتی ہے۔جب آپ کے شہر اور گاؤں خوبصورت ہوں گے تو غیرملکی سیاح اور سرمایہ کار بھی اس کی طرف کھینچے چلے آئیں گے، مریم نواز کا ماڈل ولج اور شہروں کی بیوٹیفکیشن کے منصوبے بھی کامیابی سے جاری ہیں۔

 اسی لیے آج پنجاب کی صفائی اور خوبصورتی کے عالمی سطح پر چرچے ہو رہے ہیں۔ستھرا پنجاب پروگرام ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید وسیع تر ہو رہا ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ اور سندھ کی حکومتیں بھی اس منصوبے سے مستفید ہونا چاہتی ہیں۔

 اس حوالے سے دونوں حکومتیں پنجاب حکومت سے باقاعدہ اس کی تفصیلات حاصل کر چکی ہیں۔پنجاب نے کھلے دل کے ساتھ یہ تفصیلات دونوں صوبے کے ساتھ شیئر کی ہیں۔مریم نواز اپنی تقریروں میں بار بار یہ کہہ چکی ہیں کہ پنجاب حکومت کے کسی بھی اچھے اور فلاحی منصوبے سے کسی بھی دوسرے صوبے کو کوئی فیزیبلٹی یا رہنمائی چاہیے تو ہم حاضر ہیں۔

مریم نواز کی کارکردگی اور طرز حکومت سے متاثر ہو کر دوسرے صوبوں کے عوام بھی آج برملا اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ کاش ہمارے پاس بھی مریم نواز جیسے ہی وزیراعلی ہوتی۔