حکومت سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے بات چیت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے:رانا ثناء
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے ڈیل مسترد کیے جانے کے بیان پر سیاسی ہلچل کے بعد رانا ثنا اللہ نے وضاحت کردی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے مبینہ طور پر ڈیل مسترد کرنے سے متعلق اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مؤقف مخصوص تناظر میں تھا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بات کا تعلق 24 نومبر کے احتجاج سے تھا، نہ کہ کسی اور خفیہ مفاہمت یا سیاسی سمجھوتے سے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت بانی پی ٹی آئی احتجاج کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے آمادہ نہیں تھے، وہ کسی لچک کا مظاہرہ کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتے تھے، رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، حالانکہ مقصد صرف اس وقت کی سیاسی صورتحال کی وضاحت کرنا تھا۔
رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے راجا ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو اختیارات سونپنے کے تاثر کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کو کسی قسم کا بااختیار کردار نہیں دیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی کو وزیراعظم سے ملاقات کی تجویز دی گئی تھی، تاہم یہ ملاقات نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں:53سالہ معروف اداکار چل بسے
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی استحکام پاکستان کے لیے میثاق کی پیشکش کر چکی ہے اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی ڈیل سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کر چکے ہیں، جس کے بعد حکومتی مؤقف مزید واضح ہو گیا ہے۔