مصنوعی ذہانت کی دوڑ’’میٹا‘‘ کا گوگل اور اوپن اے آئی کو چیلنج
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اب فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ”میٹا“ ایک بار پھر مرکزی کردار ادا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق میٹا، دو جدید ترین اے آئی ماڈلز پر کام کر رہی ہے جنہیں ’مینگو‘ اور ’ایووکاڈو‘ کے نام دیے گئے ہیں۔
اگر کمپنی کے منصوبے کے مطابق سب کچھ ہوا تو یہ دونوں ماڈلز 2026 کے پہلے نصف میں متعارف کرا دیے جائیں گے۔
میٹا کے یہ منصوبے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اوپن اے آئی اور گوگل مصنوعی ذہانت کے میدان میں سبقت لے جا رہے ہیں۔
اسی تناظر میں میٹا کی یہ پیش رفت محض ایک نیا پروڈکٹ نہیں بلکہ عالمی اے آئی مقابلے میں واپسی کی سنجیدہ کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:برج خلیفہ پر آسمانی بجلی گرنے کی ویڈیو وائرل
میٹا کے مطابق ’مینگو‘ ایک ایسا ماڈل ہوگا جو تصاویر اور ویڈیوز کی تخلیق میں مہارت رکھے گا۔
اس کا مقصد اعلیٰ معیار کی تخلیقی صلاحیتیں فراہم کرنا ہے، تاکہ یہ اوپن اے آئی کے ’سورا‘ اور گوگل کے ‘جدید ویژول ماڈلز’ کا مقابلہ کر سکے۔
دوسری جانب ’ایووکاڈو‘ ایک نیا لینگویج ماڈل ہوگا جو تحریر کے ساتھ ساتھ کوڈنگ اور منطقی مسائل حل کرنے میں خاص طور پر مضبوط ہوگا۔
کمپنی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایووکاڈو کو میٹا کا اب تک کا سب سے زیادہ جدید لینگویج ماڈل سمجھا جا رہا ہے
یہ ماڈل صرف الفاظ کی پیش گوئی تک محدود نہیں بلکہ دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے ’ورلڈ ماڈلز‘ کے تصور پر مبنی ہوگا۔