بگرام ائیربیس کی واپسی۔۔افغانستان نے امریکہ کو ’’چٹا‘‘ جواب دیدیا

Sep 19, 2025 | 20:54:PM
بگرام ائیربیس کی واپسی۔۔افغانستان نے امریکہ کو ’’چٹا‘‘ جواب دیدیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئر بیس سے متعلق  بیان پر افغانستان نے رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم افغان سرزمین پر امریکی افواج کی واپسی کو مسترد کرتے ہیں۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی ناقابل عمل ہے۔ ہم افغان سرزمین پر امریکی افواج کی واپسی کو مسترد کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعرات کو لندن میں برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم بگرام ایئربیس کو واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ یہ کسی حد تک بریکنگ نیوز ہوگی، ہم ایئربیس واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اُن کو امریکہ سے کچھ چیزوں کی ضرورت ہے۔ ہم اس بیس کا کنٹرول واپس چاہتے ہیں۔انہوں نے صدر بائیڈن کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت افغانستان میں بغیر کسی وجہ سے تباہ کُن صورتحال بنی، ہم نے افغانستان سے نکلنا تھا لیکن ہم نے باعزت طریقے اور اپنی طاقت دکھا کر نکلنا تھا، ہم نے بگرام ایئربیس اپنے پاس رکھنا تھا۔صدر ٹرمپ نے بگرام ایئربیس کو دُنیا کا سب سے بڑا فوجی ہوائی اڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ مفت میں اُن کے حوالے کر دیا۔ ویسے ہم اس کو واپس لینے جا رہے ہیں۔ یہ کسی حد تک بریکنگ نیوز ہوگی۔امریکی صدر کے مطابق طالبان انتظامیہ کو اُن کے ملک سے کچھ چیزیں چاہییں جس کے بدلے میں وہ اُن سے بگرام ایئربیس کا کنٹرول واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس ایئربیس کو واپس لینا چاہتے ہیں اور اس کی ایک وجہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہ بھی ہے کہ وہاں سے چین صرف ایک گھںٹے کے فاصلہ پر ہے جہاں وہ اپنے ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔

 یاد رہے کہ 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سےانخلا کے بعد طالبان انتظامیہ نے بگرام ایئربیس کا کنٹرول سنبھالا لیاتھا۔دہائیوں قبل افغانستان میں اپنی افواج اُتارنے کے بعد امریکہ نے بگرام کے علاقے میں ایک بڑا ایئربیس قائم کیا تھا جہاں سے پورے افغانستان میں فضائی آپریشن کیے گئے۔اس ہوائی اڈے امریکی افواج نے خطے میں اپنے اثر ورسوخ کو برقرار رکھنے کیلئے بھی استعمال کیا۔ 

 یہ بھی پڑھیں:بجلی کی پیداواری قیمت میں کمی ’’معجزے ‘‘سے ہی ممکن ہے، نیپرا نے ہاتھ کھڑے کر دیئے