جمشید دستی کی ایف آئی آر خارج کرنے کی سماعت،پیکا ایکٹ دفعات کا ریکارڈ طلب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عمران مہر)ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس صادق محمود خرم نے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید خان دستی کی ایف آئی آر خارج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔
عدالت کے استفسار پہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پٹیشنر کے خلاف مقدمہ سے پیکا ایکٹ کی دفعات حذف کرنے کا ریکارڈ موجود نہیں ہے، اس لئے ریکارڈ طلب کیا جائے جس پر فاضل عدالت نے 27 نومبر کو ریکارڈ طلب کرلیا ۔
پٹیشنر کے وکیل شیخ جمشید حیات نے فاضل عدالت کو آگاہ کیا کہ تھانہ سول لائنز مظفرگڑھ نے اکتوبر 2024 میں پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ۔
اس ایکٹ کے تحت جنوری 2025 میں ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی جب اس کو عدالت عالیہ ملتان بینچ میں چیلنج کیا گیا تو متعلقہ پولیس نے بیان دیا کہ ہم نے پیکا ایکٹ کی تمام دفعات حذف کر دی ہیں۔
اس کے علاوہ 2025 کی ترمیم کے بعد مندرجہ بالاایف آئی آر کا پٹیشنر بھی اطلاق نہیں ہوتا ہے، اس لیے ان مقدمات کو خارج کیا جائے ،تھانہ سول لائن مظفرگڑھ میں جمشید خان دستی کے خلاف پیکا ایکٹ کی دفعات 20 اور 11 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔
پرائیویٹ شخص ذوالفقار ڈوگر کی شکایت پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ کا اندراج کیا،پیکا ایکٹ کے تحت نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے بعد ازاں مقدمہ درج کیا جس میں جمشید دستی نے کنفرم ضمانت حاصل کر لی تھی ، اس مقدمہ کے اخراج کے لئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :ججز ٹرانسفر کیس میں انٹرا کورٹ اپیلیں 24 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر