ایران صرف امریکی مفادات پر حملے نہیں کر رہا، اب یہ ثابت ہو چکا ہے، محمد بن عبدالرحمن الثانی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا ہے کہ ایران صرف امریکی مفادات پر حملے نہیں کر رہا، اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔
قطر کے وزیراعظم نے آج جمعرات کے روز کہا کہ قطر کے گیس مرکز پر حملہ 'واضح ثبوت' ہے کہ ایران صرف امریکی مفادات کو نشانہ نہیں بنا رہا ہے۔
قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے آج جمعرات کو کہا کہ قطر میں دنیا کی سب سے بڑی گیس کی تنصیب پر ایران کا حملہ خلیج میں صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے تہران کے دعووں کے خلاف "واضح ثبوت" ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے کہا کہ "مسلسل ایرانی دعوے تھے کہ یہ حملے امریکی مفادات کے خلاف ہیں… اور یہ دعویٰ مسترد کیا جاتا ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا"۔ انہوں نے ایران سے اپنے حملے فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "اس کا واضح ثبوت وہ حملہ ہے جو کل ہوا جس میں ریاست قطر میں قدرتی گیس کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا گیا"۔
28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے تہران پر ابتدائی حملوں کے فوراً بعد ہی ایران نے جوابی حملے شروع کر دیئے تھے اور تب سے اب تک ایران کے جوابی حملوں کا نشانہ اسرائیل سے زیادہ قطر، سعودی عرب، دبئی، بحرین، کویت اور ابوظہبی بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: قطر کے سب سے بڑے ایل این جی پروڈکشن مرکز پر ایرانی میزائل کا حملہ، بھاری نقصان کی تصدیق
عرب پڑوسیوں پر حملوں کے دوران ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے ایک مرتبہ ان حملوں پر معافی بھی مانگ لی تھی اور کہا تھا کہ ان کا مقصد صرف امریکی تنصیبات پر حملے کرنا تھا، لیکن اس کے فوراً ہی بعد تہران میں حکومت کے بعض طاقتور رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ جن ملکوں میں امریکہ کی تنصیبات ہیں، ان ملکوں پر حملے جاری رہیں گے۔ ایران کا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ وہ عرب ملوں میں صرف امریکی مفادات پر حملے کر رہے ہیں۔
کل ایران نے قطر کے سب سے بڑے ایل این جی پروڈکشن مرکز راس لفان پر میزائل چلائے تھے جس کے نتیجے میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔ یہ مرکز قطر انرجی کی بلا شرکت غیرے ملکیت ہے اور امریکہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
ایران کے وارننگ دینے کے بعد راس الفان ایل این جی مرکز پر میزائل مارے
ایران نے راس الفان پر حملہ کرنے سے پہلے کئی عرب ملکوں میں امریکی مفادات سے جڑی آئل اینڈ گیس تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ اس سے پہلے اسرائیل نے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر بمباری کی تھی۔ جنوبی پارس گیس فیلڈ ایران اور قطر کی مشترکہ ملکیت ہے۔ اس حملے کے جواب میں ایران نے عرب ملکوں میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملے کرنے کا اعلان کیا اور بعد میں قطر کا راس الفان مرکز ایران کے میزائلوں کی زد میں آیا۔ حالانکہ قطر نے اسرائیل کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملے کی سخت مذمت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیئے: غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک؛ قطر نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کر دی