قطر کے سب سے بڑے ایل این جی پروڈکشن مرکز پر ایرانی میزائل کا حملہ، بھاری نقصان کی تصدیق

Mar 19, 2026 | 00:11:AM
 قطر کے سب سے بڑے ایل این جی پروڈکشن مرکز پر ایرانی میزائل کا حملہ، بھاری نقصان کی تصدیق
کیپشن: قطر کے علاقہ راس لفان مین قطر انرجی کے ایل این جی پروجیکٹ کے ایک حصے کا منظر، قطر انرجی نے یہ منصوبہ 2019 میں شروع کیا تھا۔ اسے دنیا میں نیچرل گیس کو ایل این جی میں ٹرانسفارم کرنے کا سب سے بڑا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک ) قطر کے ایل این جی پروڈکشن کے مرکز راس لفان پر ایرانی میزائل حملہ ہوا ہے۔ اس حملے سے  انفراسٹرکچر کا نقصان ہوا ہے تاہم کہا جا رہا ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

قطر کی نیوز آؤٹ لیٹ الجزیرہ نیوز  نے بتایا کہ قطر انرجی کا کہنا ہے کہ راس لفان پر ایرانی میزائل حملے کے بعد تمام عملے کا حساب کیا گیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
الجزیرہ نیوز نے قبل ازیں قطر کی وزارت داخلہ کی معلومات کی بنیاد پر اطلاع دی تھی کہ راس لافان کے علاقے میں آگ لگ گئی تھی -  راس لفان  دنیا کی سب سے بڑی LNG پروڈکشن فیسیلٹی کا گھر ہے - اس وقت یہ نہین بتایا گیا تھا کہ آگ کیسے لگی۔

اب الجزیرہ نے بتایا کہ قطر انرجی  QatarEnergy نے تصدیق کی ہے کہ راس لافن انڈسٹریل سٹی آج شام میزائل حملوں کا نشانہ بنا۔

یہ بھی پڑھیئے: ایران کے صدر نے انٹیلی جنس کے وزیر اسمٰعیل خطیب کے شہید ہونےکی تصدیق کردی

یہ بھی پڑھیں:  ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی بمباری کے بعد سعودیہ اور دیگر عرب اور ملکوں کی آئل، گیس تنصیبات پر حملوں کی وارننگ دےدی 

قطر انرجی کمپنی نے کہا، " میزائل حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو فوری طور پر تعینات کیا گیا تھا، کیونکہ بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ تمام اہلکاروں کا حساب کیا گیا ہے اور اس وقت کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے،" کمپنی نے کہا۔