چین نے مشرق وسطیٰ و افریقہ میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی اپنی صلاحیت بڑھا لی
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک ) امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز نے کہا ہے کہ چین نے جبوتی میں فوجی اڈے کو جدید بنایا ہے جس سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی اس کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تجارتی سیٹلائٹ تصاویر میں چینی اڈے پر نئے انٹینا، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور دیگر آلات نصب کیے جانے کی نشاندہی ہوئی ہے، یہ چین کا واحد باضابطہ طور پر تسلیم شدہ بیرون ملک فوجی اڈہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024ء کے وسط سے اڈے پر قائم کیے گئے دو نئے مواصلاتی کمپلیکس ممکنہ طور پر وسیع انٹیلی جنس اور فوجی کمانڈ نظام کا حصہ ہیں، ان سے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں موجود چینی افواج اور چین میں فوجی ہیڈکوارٹرز کے درمیان رابطے بھی مضبوط ہو سکتے ہیں، نئے آلات مختلف اقسام اور سمتوں میں نصب کیے گئے ہیں جس سے چین کو مختلف سگنلز کی ترسیل اور نگرانی کی وسیع صلاحیت مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیخلاف جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی:صدر ٹرمپ
تاہم یہ طے نہیں کیا جا سکا کہ چین ان مواصلاتی سگنلز کو عملی طور پر روک بھی رہا ہے یا نہیں، جبوتی کا چینی فوجی اڈہ 2017ء میں قائم ہوا تھا اور خلیج عدن اور بحیرہ احمر میں چینی بحری کارروائیوں کیلئے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
یہ اڈہ باب المندب کے قریب واقع ہے، جو عالمی بحری تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔رپورٹ کے مطابق خطے میں حوثیوں، ایران، امریکا اور اسرائیل سے متعلق حالیہ تنازعات نے فوجی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے چینی اڈے سے انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔
امریکا، فرانس، اٹلی اور جاپان کے فوجی اڈے بھی چینی اڈے سے 16 کلومیٹر سے کم فاصلے پر واقع ہیں۔