اسرائیل نشانے پر آگیا

تحریر:عدیل احمد

Sep 18, 2025 | 16:56:PM
اسرائیل نشانے پر آگیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کے بعد خطے کا بدمعاش پاکستانی میزائلوں سے محفوظ نہیں رہے گا اور آئرن ڈوم سسٹم بھی اسرائیل کو میزائلوں سے نہیں بچا سکے گا ،،، پاکستانی میزائلوں کی رینج اور ان کی اسپیڈ اسرائیل کے لیے ایک بڑا دردِ سر بننے والی ہے۔ سعودی عرب کا مغربی علاقہ خاص طور پر شہر تبوک اسرائیل سے محض 500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہ قربت پاکستان کے دفاعی نظام کے لیے ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو گی جو درمیانی اور کم رینج والے میزائلوں کو بھی تل ابیب سمیت اسرائیل کے اہم ترین شہروں اور فوجی تنصیبات تک رسائی فراہم کرے گی، پاکستان کے پاس میزائلوں کا ایک جدید اور متنوع ذخیرہ موجود ہے جو سعودی عرب میں تعیناتی کے بعد اسرائیل کے لیے ایک واضح خطرہ بن سکتا ہے اور سعودی عرب میں تعیناتی کے بعد پاکستان کے میزائل اسرائیل پر مشرق، جنوب اور جنوب مشرق سے حملہ کر سکتے ہیں جس سے اسرائیلی دفاعی نظام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔
اگر ہم پاکستانی میزائلوں کی بات کریں تو سب سے پہلے بابر کروز میزائل کا نام آتا ہے جس کی رینج 450 سے 750 کلومیٹر ہے ،،، جو تقریبا 980 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے ،،، اگر اس میزائل کو سعودی عرب کے مغربی علاقوں سے داغا جائے تو یہ تقریباً 15 سے 20 منٹ کے دوران اسرائیل کسے کسی بھی علاقے کو تباہ و برباد کر سکتا ہے، بابر کروز میزائل ایٹمی اور روایتی دونوں طرح کے وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ،،، اس میزائل کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کم اونچائی پر پرواز کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو دشمن کے ریڈار نظام سے بچنے میں مددگار ہے۔
دوسرا تباہ کن میزائل 750 کلومیٹر کی رینج والا ’شاہین ون‘ ہے جس کی رفتار تقریبا 1100 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، یہ میزائل درست نشانہ لگانے اور اسرائیل کے بیشتر حصوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ میزائل سعودی عرب کے مغربی علاقوں سے داغے جانے کے بعد تقریباً 12 سے 15 منٹ میں کسی بھی اسرائیلی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ 1300 کلومیٹر کی رینج والے غوری میزائل کی رفتار ماک 5 یعنی 6100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہے اور یہ تباہ کُن میزائل صرف 5 سے 7 منٹ کے دوران اسرائیلی شہروں کا ملبے کا ڈھیر بنا سکتا ہے۔
ابابیل میزائل کی رینج 2200 کلومیٹر ہے اور یہ تباہ کُن ہتھیار تقریباً 12,000 سے 15,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے، سعودی عرب کے مغربی علاقوں سے اگر اس میزائل کو اسرائیل پر داغا جائے تو یہ صرف 3 سے 4 منٹ کے دوران اسرائیل کے کسی بھی شہر کو راکھ اور ملبے کا ڈھیر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس میزائل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک سے زیادہ اہداف کو باآسانی نشانہ بنا سکتا ہے، جو اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کی بات کریں تو اس کا ’آئرن ڈوم سسٹم‘ میزائلوں کو روکنے کے لیے شہرت رکھتا ہے لیکن یہ ’آئرن ڈوم سسٹم‘ بھی پاکستانی میزائلوں کے سامنے بس بس ہو جائے گا کیونکہ یہ دفاعی نظام ایک وقت میں محدود تعداد میں ہی میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جدید ترین کروز میزائل اور ہائپر سونک میزائل اس کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں، پاکستان کے پاس میزائلوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، اگر زیادہ تعداد میں اسرائیل پر میزائل داغے جائیں تو یہ اسرائیلی دفاعی نظام کو باآسانی چکمہ دے کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، پاکستان کے میزائل جدید ترین اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہیں جو ریڈار کی گرفت سے بچنے میں مددگار ہیں، ’ایم آئی آر وی‘ ٹیکنالوجی سے لیس پاکستانی ابابیل میزائل کے متعدد وارہیڈز کو روکنا اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم کے لیے تقریبا ناممکن ہو گا، آئرن ڈوم سسٹم کا میزائل کا پتہ لگانے سے لے کر تباہ کرنے تک کا وقت تقریبا 15 سے 30 سیکنڈز ہے تاہم پاکستان کے تیز رفتار میزائلوں غوری اور ابابیل کے لیے یہ وقت ناکافی ہو سکتا ہے۔
صرف میزائل ہی نہیں پاکستانی فضائیہ بھی اسرائیل سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہے اور جنگ مئی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے پاکستانی شاہینوں نے اب اسرائیل پر نظریں جما لی ہیں۔ اگر پاک فضائیہ کی بات کریں تو سعودی عرب میں فوجی اڈہ قائم ہونے کے بعد پاک فضائیہ کی موجودگی اسرائیلی فضائیہ کے لیے اضافی خطرہ ہو گی، پاک فضائیہ کے پاس ایف 16، جے ایف 17 تھنڈر اور جے 10 سی جیسے جدید لڑاکا طیارے موجود ہیں جبکہ پاکستانی پائلٹوں کی تربیت اور تجربہ اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک قابلِ غایت چیلنج ہو گا، 1967 اور 1973 کی عرب-اسرائیل جنگوں میں بھی پاکستانی پائلٹوں نے شام اور مصر کی طرف سے لڑائی لڑی اور متعدد اسرائیلی جنگی طیارے مار گرائے تھے۔
سعودی عرب میں پاکستانی فوجی اڈے کا قیام خطے کی جغرافیائی سیاسیات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو گا، یہ اقدام نہ صرف اسرائیل کے خلاف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کر دے گا، تاہم، اس کے نتیجے میں ایک نئی دفاعی دوڑ بھی شروع ہو سکتی ہے اور اسرائیل، امریکہ اور دیگر اتحادیوں سے اضافی دفاعی مدد کی درخواست کر سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر