چین میں تیل کی طلب کم ترین سطح پر پہنچ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )چین میں خام تیل کی ریفائنری سرگرمی اپریل میں اگست 2022 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئی،اسی دوران خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ریفائنری تھروپٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.8 فیصد کم ہو کر 54.65 ملین میٹرک ٹن (تقریباً 13.3 ملین بیرل یومیہ) رہ گیا، یہ کمی توانائی کے شعبے میں مسلسل دباؤ اور منفی ریفائننگ مارجنز کے باعث سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال کے ابتدائی چار ماہ میں مجموعی ریفائنری پروسیسنگ بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی کے ساتھ 238.95 ملین میٹرک ٹن رہی۔ اسی دوران ریفائنریوں کی اوسط آپریٹنگ شرح بھی کم ہو کر 63.59 فیصد پر آ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح کمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر بڑی کارروائی کا خدشہ، امریکا میں ہنگامی صورتحال
ماہرین کے مطابق منفی منافع کے باعث ریفائنریوں نے پیداوار کم کر دی ہے، جبکہ چھوٹی ریفائنریاں مزید کمی پر مجبور ہو سکتی ہیں۔ کچھ پلانٹس کو مرمت اور بندش کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
دوسری جانب خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جو مارکیٹ میں کمزور طلب کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپریل میں خام تیل کی درآمدات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو تقریباً چار سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال توانائی کی عالمی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے، اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں طلب اور قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔