ججز ٹرانسفر کیس،عدالت نے عمران خان کے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)سپریم کورٹ آئینی بنچ نے ججز ٹرانسفر اور سنیارٹی سے متعلق کیس میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا،عدالت نے کہاکہ پہلے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب دلائل دیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نےدلائل دیتے ہوئے کہاکہ ججز تقرری کی تاریخ پر ایک سنیارٹی لسٹ ترتیب دی گئی،1970میں ون یونٹ تحلیل ہوا تو جج کو مختلف ہائیکورٹس میں ٹرانسفر کیاگیا، یہاں بھی ججز کی گزشتہ سروس کو ٹرانسفر پر تسلیم کیاگیا، 1976میں سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کو الگ کیاگیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ ون یونٹ پر نئی عدالتیں تشکیل دی گئیں،سوال یہ ہے آرٹیکل 200کے تحت جج کا تبادلہ مستقل ہوگا یا عارضی؟اٹارنی جنرل نے تو کہہ دیا کہ ججز کا تبادلہ مستقل کیاگیا۔سوال یہ ہے آرٹیکل 200کے تحت جج کا تبادلہ مستقل ہوگا یا عارضی؟اٹارنی جنرل نے تو کہہ دیا کہ ججز کا تبادلہ مستقل کیا گیا۔