بالی ووڈ میں کب سے کام نہیں مل رہا؟ وجہ کیا ہے؛گلوکار اے آر رحمٰن نے سب کچھ بتا دیا

Jan 18, 2026 | 21:28:PM
بالی ووڈ میں کب سے کام نہیں مل رہا؟ وجہ کیا ہے؛گلوکار اے آر رحمٰن نے سب کچھ بتا دیا
کیپشن: اے آر رحمٰن ہندو پیدا ہوئے تھے لیکن جوانی میں اپنی مرضی سے مسلمان ہوئے، مسلمان کی حیثیت سے ہی گلوکاری اور موسیقی  کے آسمان پر جگمگائے لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ بالی ووڈ کہلانے والی انٖڈسٹری کے حالات بدل گئے ہیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)تعصب نے بمبئی کو ممبئی بنا ڈالنے کے بعد بالی ووڈ فلم انڈسٹری کو بھی کچھ ایساآسیب زدہ بنا دیا کہ  اب وہاں اپنے ہی بنائے ہوئے میوزک لیجنڈ کو کام نہیں ملتا۔ سب سے بڑے فنکار  اے آر رحمٰن نے غیر ملکی میڈیا آؤٹ لیٹ کو سب کچھ بتا دیا۔ 

عالمی شہرت یافتہ اور آسکر ایوارڈ جیتنے والے موسیقار اور گلوکار اے آر رحمان  نے ایک انٹرنیشنل میڈیا آؤٹ لیٹ سے انٹرویو میں شکایت کی کہ ’ مجھھے  گذشتہ آٹھ سالوں سے بالی ووڈ میں کام ملنا بند ہو گیا ہے۔‘
اے آر رحمان کی اس شکایت نے ان کے مداحوں کے ساتھ فلم انڈسٹری کے لوگوں کو بھی تڑپا کر رکھ دیا ہے۔  اے آر رحمٰن کے انٹرویو پر  انڈین فلم انڈسٹری کے بہت سے لوگوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

اے آر رحمان کا  پیدائشی نام دلیپ کمار (A. S. Dileep Kumar) تھا۔ انہوں نے 1989ء میں اسلام قبول کر لیا تھا اور مسلمان ہونے کے کے بعد اپنا نام بدل کر اللہ رکھا رحمان (A. R. Rahman) رکھ لیا تھا۔

اے آر رحمان نے انٹرویو میں کیا کہا؟
 کئی بالی ووڈ فلموں میں یادگار موسیقی دینے والے آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان نے ایک غیر ملکی میڈیا آؤٹ لیٹ سے ایک خصوصی انٹرویو میں اپنے اب تک کے موسیقی کے سفر، بدلتے ہوئے سینما، مستقبل کے منصوبوں اور معاشرے کے موجودہ ماحول کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے پہلی مرتبہ فلم انڈسٹری میں کام ملنے  یا نہ ملنے کے پیچھے کارفرما تعصب کی بات کی۔ اس بات نے بہت سے لوگوں کو بھڑکا دیا ہے اور وہ بڑھ بڑھ کر اے آر رحمٰن پر تنقید کرنے لگے ہیں، ان میں سے ایک کو بھی کبھی رحمٰن کے فن پر انگلی اٹھانے کی جرات نہیں ہوئی تھی۔
اپنے فوراً وائرل ہو گئے انٹرویو میں اے آر رحمان نے فلم انڈسٹری کے بارے میں کہا کہ ’شاید گذشتہ آٹھ سالوں میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے اور جو لوگ تخلیقی نہیں ہیں وہ فیصلے لے رہے ہیں، فرقہ وارانہ زاویہ بھی ہوسکتا ہے، لیکن مجھے کسی نے نہیں کہا۔‘
ہمیشہ نت نئی دھنیں اختراع کرنے کے لئے مشہور گلوکار اور موسیقات رحمٰن نے اعتراف کیا کہ اب ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔

اے آر رحمان نے مزید کہا کہ ’ہاں، کچھ باتیں میرے کانوں تک پہنچی ہیں۔ جیسے کہ آپ کو بک کیا گیا تھا، لیکن ایک اور میوزک کمپنی نے فلم کو فنڈ دیا اور وہ اپنے موسیقاروں کو لے آئے۔‘
’میں نے کہا ٹھیک ہے، میں آرام کروں گا، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاروں گا۔ میں کام کی تلاش میں نہیں ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس کام آئے۔ میں چاہتا ہوں کہ میری محنت اور ایمانداری سے مجھے چیزیں مل سکیں۔‘
اے آر رحمان نے اس گفتگو کے دوران کہا کہ ’میں اس کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتا، کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی ذاتی معاملہ ہے۔ ہر کسی کی اپنی سوچ، اپنی اپنی ترجیحات ہیں۔ ہمیں کتنا کام کرنا چاہیے یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔‘

بالی ووڈ مین آٹھ سال سے کام نہ ملنے کے باوجود 8ویں بار نیشنل ایوارڈ مل گیا

اے آر رحمان  سب سے زیادہ نیشنل ایوارڈ جیتنے والے میوزیشن، سنگر بھی ہیں۔ انہوں نے اگست 2024 میں بھی یہ ایوارڈ جیتا۔

یہ بھی پڑھیئے: جنید صفدر اور شانزے کی شادی میں کس خاص مہمان کی تصویریں وائرل ہوئیں؟ دلچسپ رپورٹ

بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز 16 اگست کو 2022 میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلموں کے لیے 70ویں نیشنل ایوارڈز کا اعلان ہوا تو  70ویں نیشنل فلم ایوارڈز کے فاتحین میں آسکر ایوارڈ یافتہ بھارتی گلوکار اے آر رحمان کا نام بھی شامل تھا، انہیں نیشنل فلم ایوارڈز میں بہترین میوزک ڈائریکٹر (بیک گراؤنڈ سکور) کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اے آر رحمان کو منی رتنم کی تامل فلم "پونیئن سیلوان پارٹ 1" کے لیے موسیقی کی ہدایتکاری کرنے پر ایوارڈ دیا گیا، یہ فلم سال 2022 میں سپر ہٹ ثابت ہوئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ساتواں نیشل فلم ایوارڈ جیتنے کے بعد اے آر رحمان بھارت میں سب سے زیادہ مرتبہ یہ ایوارڈ جیتنے والے پہلے میوزک ڈائریکٹر بن گئے ہیں۔

بالی ووڈ فلم انڈسٹری کا ردعمل

’آٹھ سال سے بالی ووڈ میں کام نہیں ملا‘: اے آر رحمان کے شکوے نے فلم انڈسٹری میں عرصہ سے آہستہ آہستہ پنپ رہی مذہبی فرقہ واریت اور اچانک بہت زیادہ برھا دیئے گئے تعصب پر بحث چھیڑ دی۔
بائیں بازو کے دانشور، شاعر اور بالی ووڈ کے لیے درجنوں مقبول گانے لکھنے والے جاوید اختر نے اے آر رحمٰن کی شکایت کو سنجیدگی سے لیا لیکن  سیکولرزم کے علمبردار جاوید اختر نے  کہا  کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ ہے۔‘
گلوکار شان نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ موسیقی میں کوئی فرقہ وارانہ یا اقلیتی پہلو ہے اگر ایسا ہوتا تو ہمارے تینوں سپر سٹارز جو 30 سال سے انڈسٹری میں ہیں اور بالی ووڈ میں چھائے ہوئے ہیں وہ بھی تو ہیں۔ لیکن کیا اس وجہ سے ان کے فینز یا مداح کم ہوئے ہیں؟ وہ تو صرف بڑھ رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں :   جنید صفدر اور شانزے رشتہِ اذدواج میں منسلک ہوگئے
اے آر رحمان کے اس دعوے پر ناول نگار شوبھا ڈی تو بھڑک ہی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت خطرناک تبصرہ ہے۔۔۔ میں پچاس سال سے بالی ووڈ دیکھ رہی ہوں، اگر میں نے کوئی ایسی جگہ دیکھی ہے جو فرقہ واریت سے پاک ہے تو وہ بالی ووڈ ہے اگر آپ کے پاس ٹیلنٹ ہے تو آپ کو موقع ملے گا۔‘

شوبھا ڈی نے کہا کہ ’اگر آپ کے پاس ٹیلنٹ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ کو کام مذہب کی وجہ سے نہیں مل رہا یا لوگ آپ کو موقع نہیں دے رہے۔ وہ ایک بہت کامیاب اور سمجھدار شخص ہیں۔ انھیں وہ نہیں کہنا چاہیے تھا جو وہ کہہ رہے ہیں۔ ان کے پاس کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے۔۔۔ آپ اُن سے اُس کے بارے میں سوال کریں۔‘
اس معاملے پر ایک سوال کے جواب میں گلوکار شنکر مہادیون نے کہا کہ ’میں یہ کہوں گا کہ گانے کو کمپوز کرنے والا اور وہ شخص جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مجھے گانا لینا چاہیے یا نہیں، مجھے اس کی مارکیٹنگ کرنی چاہیے یا نہیں، دو الگ الگ لوگ ہیں۔ یہ فیصلہ کرنے والے لوگ موسیقی کے شعبے سے تعلق نہیں رکھتے۔‘

رحمن کی اس سیدھی شکایت پر گلوکار شان  نے ایک لوکل نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا ’جہاں تک کام نہ ملنے کا سوال ہے تو، میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں، میں نے کئی سالوں میں اتنا گایا ہے، پھر بھی مجھے کام نہیں مل رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑحیئے: بشنوئی گینگ کا گلوکار بی پراک سے 10 کروڑ بھتے کا مطالبہ
تاہم شان نے کہا، ’مجھے نہیں لگتا کہ موسیقی میں کوئی فرقہ وارانہ یا اقلیتی پہلو ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہمارے تینوں سپر سٹارز جو تقریباً 30 سال سے بالی ووڈ پر راج کر رہے ہیں، مگر اُن کے مداح کم نہیں ہوئے، ان میں دن بدن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔‘
شان نے اے آر رحمان کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک حیرت انگیز موسیقار ہیں اور ان کا کام کرنے کا ایک منفرد انداز ہے۔

مہاراشٹر میں طویل عرصہ سے حکمران رہ چکی مراٹھا قوم پرست جماعت شیو سینا کی لیڈر شائنا این سی نے اے آر رحمان کے بیان پر کہا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اے آر رحمان انڈسٹری میں فرقہ کی بنیاد پر کام نہ ملنے کی بات کر رہے ہیں۔ انھیں ہر طرح کا موقع ملا ہے اور انڈیا کی خوبصورتی اس کا تنوع اور اتحاد ہے۔‘
’اگر کوئی راستہ بند ہو تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ تمام رکاوٹوں کو قابلیت سے دور کیا جا سکتا ہے اور جب آپ کو موقع ملتا ہے تو آپ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کی خاص بات ہے کہ سب کو یکساں ترجیح دی جاتی ہے۔‘

رحمان نے پانچ سال مین پچیس سال کا کام کیا؛ انوپ جلوٹا
اے آر رحمان کی اس شکایت پر بھجن گانے سے شہرت پانے والے گلوکار انوپ جلوٹا نے کہا کہ ’یہ بالکل سچ نہیں ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ  اے آر رحمان نے پانچ سالوں میں پچیس سال کا کام کیا ہے، اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ انھوں نے بہت کام کیا ہے اور بہت اچھا کام کیا ہے، لوگ ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیئے:   ٹرمپ کے گرین لینڈ ٹیرف کیا ہیں، کن ملکوں پر لگ رہے ہیں؟