بسنت2026؛لاہوریوں کاامتحان اوربنام سرکار

 اُستاد راشد، شیخ ابراہیم ،خواجہ ندیم سعید وائیں اورعدنان منور کی اینکرزوہیب سلیم بٹ سے گفتگو

Jan 18, 2026 | 13:35:PM
بسنت2026؛لاہوریوں کاامتحان اوربنام سرکار
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)لاہور میں بسنت کی تیاریوں کے حوالے سے سٹی 42 کے مقبول پروگرام’’ بنام سرکار‘‘ میں اُستاد راشد، شیخ ابراہیم ،خواجہ ندیم سعید وائیں اور امریکہ سے آئےاوورسیز پاکستانی پتنگ باز عدنان منور نے خصوصی شرکت کی ۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی پتنگ باز لاہور میں بسنت کی بحالی کا سن کر آئے اور لاہور کے پرانے پتنگ سازوں اور پتنگ بازوں کے اعزاز میں کھانے کا اہتمام کیا اور ساتھ انعامات بھی تقسیم کیے ۔


 پروگرام کے آغاز میں’’بنام سرکار‘‘کے اینکر پرسن زوہیب سلیم بٹ نے خواجہ ندیم سعید وائیں سے سوال کیا کہ بسنت کی اجازت مل جانے کے باوجود لوگوں میں ابھی خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے جس کے جواب میں خواجہ ندیم وائیں نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ،حکومت وقت نے ہمیں بیس سال بعد یہ ایونٹ واپس دیا ہے اب ہمیں خود اس کی حفاظت کرنی ہے، حفاظت کرنے کیلئے عوام کو چاہیے کہ بائیکس پر سیفٹی راڈ نصب کریں اور چرخی کی بجائے پنہ استعمال کریں ,ہم ذمہ دار شہری ہیں اور لاہوریوں کو ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دینا چاہیے ، بسنت کی اجازت سے دُنیا بھر سے لوگوں کی کالز آرہی ہیں اور اُن لوگوں نے بسنت کو منانے کیلئے چھتیں بھی بک کروا لی ہیں ۔


 اینکرپرسن زوہیب سلیم بٹ نے امریکہ سے آئے اوورسیز پاکستانی عدنان منور سے سوال کیا کہ امریکہ میں بھی آپ پتنگ بازی کرتے ہیں؟اس کے جواب میں عدنان منور نے کہا میں نیویارک میں وکیل ہوں لیکن پتنگ بازی کا شوقین ہوں اس لیے انٹرنیشنل لیول پر مختلف ممالک کے میچز کرواتا ہوں ، 2002 میں لاہور میں امریکہ اورلاہور کا پتنگ بازی پر میچ کروایا تھا لیکن اُس کے بعد لاہور میں ڈور پھرنے کی وجہ سے کئی لوگوں کی جانیں چلی گئیں جس کے بعد حکومت وقت نے پابندی لگادی ۔
 اُنہوں نے مزید بتایا کہ مجھے خود پتنگ بازی کا بہت شوق ہے اور پابندی لگنے کے بعد میں نے پاکستان کے باہر انٹرنیشنل لیول پر میچز کروائے جس میں دبئی ، شارجہ ، سعودی عرب ، کینیڈا  اور امریکہ کے آپس میں میچز کروائے ،اب امریکہ میں رہ کر اپنا شوق پورا کررہاہوں ۔


 بات جاری رکھتے ہوئےاوورسیز پاکستانی پتنگ باز عدنان منور نے بتایاکہ وہ امریکہ میں پتنگ بازی کرتے ہیں اور وہاں کی حکومت نے کھلے میدانوں میں یا ایسی جگہ جہاں پتنگ کٹ کر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اس کی اجازت دی ہوئی ہے، یہاں کی گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ  بسنت کو مستقل بنیادوں پر اجازت دے اور بسنت کو سپورٹس کا درجہ دینا چاہیے ، اب تو اُنہوں نے امریکہ کی دس ریاستوں میں مختلف ٹیمیں بھی بنا دی ہیں۔
 اُنہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سننے میں آتا ہے کہ جوکام عورت کر سکتی ہے وہ کوئی اور نہیں کر سکتا، اس لیے مریم نواز نے بسنت کی اجازت دے کر کمال کر دیا ۔ 
اینکرزوہیب سلیم بٹ سے بات کرتے ہوئے شیخ ابراہیم نے کہا بسنت پر پابندی کی سب سے بڑی وجہ موٹی ڈور تھی، گڈی کٹ جانے پرکچھ لوگوں نے پھر ہوائی فائرنگ شروع کردی اوریہ آہستہ آہستہ  تہوار بدمعاشی کی نظر ہوگیا ۔


 اینکر زوہیب سلیم بٹ سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے مزیدبتایا کہ اچھا پتنگ باز کبھی بھی موٹا دھاگا اور نائیلون والی ڈور نہیں استعمال کرتا اورنہ ہی حوصلہ ہارتا ہے ۔
خواجہ ندیم سعید وائیں نے بتایا کہ حکومت بسنت کی ایسوسی ایشنز کی بجائے کلب بنائے اور ہر علاقہ کے اسسٹنٹ کمشنر کے ذریعے اُن پر مانیٹرنگ کرے، اور یہ ٹرائل بسنت ہے اس کو محفوظ لاہوریوں نے کرنا ہے کیونکہ بسنت کا زیادہ تر پریشر ایسوسی ایشنز پر ہوتا ہے ،پرانے زمانے میں اچھی پتنگ کے تنکوں سے آنکھوں میں سُرمہ ڈالتے تھے ،یہ بات سن کر اینکر زوہیب سلیم بٹ کافی حیران ہوئے ،اُنہوں نے عدنان منور کا شکریہ ادا کیا اور کہا مریم نواز کی اجازت کے بعد آپ نے ہم سب کو آج  مدعو کیا سب کے چہروں پر خوشی کی وجہ آپ ہے ۔
 پروگرام کے تیسرے حصے میں مشہور دادا اُستاد راشد سے بات ہوئی جو سلطان کے جانشین ہیں اور پیر واجد علی شاہ کے شاگرد ہیں،انہوں نے بڑے دلچسپ انداز میں باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گیم ہے رگڑ کی جو بندہ رگڑ مارنا جانتا ہے گیم صرف اسی کی ہے، پھر اینکر زوہیب سلیم بٹ نے استاد راشد سے پوچھا کہ آپکے پاس اس ٹائم میں کتنی پگیں ہیں تو استاد راشد نے بتایا کہ میرے پاس برصغیر کی دوسری بڑی پگ موجود ہے،اُنہوں نے کہا مجھے سخت نفرت ہے موٹی ڈور سے ،میری پسندیدہ ڈوریں 60 ایکسلے ، 5نمبر، 35نمبر اور 60 نمبر ہے،میں کبھی  90 پلائی والی ڈور نہیں استعمال کرتا کیونکہ وہ موٹی ڈور ہوتی ہے اور اُسے گلے کٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے ۔

 یہ بھی پڑھیں:جنید صفدر کی دعوت ولیمہ ؛جاتی امرا کے باہر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات
 انہوں نے سارے لاہوریوں کو چیلنج  کرتے ہوئے کہا میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میرےساتھ گیم کر کے دکھا دیں۔اور اسی کے ساتھ پروگرام کے آخر میں ارتضیٰ بٹ سے بات کی گئی تو انہوں نے بھی بڑے پرجوش انداز میں کہا کہ بہت بڑا ایونٹ لاہور یوں کیلئے دوبارہ آرہا ہے تو اس کو اچھے سے انجوائے کرنا چاہیے، ہم بسنت دہلی دروازے منائیں گے جو ہمارا پرانا کلچر ہے۔
,,,,