زلزلے کے جھٹکے، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے نکل آئے

Feb 18, 2025 | 10:38:AM
زلزلے کے جھٹکے، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے گھروں سے نکل آئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ،آج بلوچستان کے علاقے سبی اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں اس کے چند منٹ بعد  سوات  میں بھی زمین لرز اٹھی  جس کے سبب عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

 زلزلہ پیمامرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 3 اعشاریہ 3 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزلے کا مرکز سبی سے87 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا، زیر زمین گہرائی 30 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مینگورہ اور گرد ونواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

زلزلہ پیما مرکز کا کہنا تھا کہ زلزلے کی شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔
 دوسری جانب سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہری خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے۔

 زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور گردونواح میں زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی ، زلزلے کی زیر زمین گہرائی 166 کلو میٹر تھی جبکہ زلزلے کا مرکز پاک افغانستان اورتاجکستان کا سرحدی علاقہ تھا۔

 زلزلے کے باعث لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

 زلزلے کیوں آتے ہیں۔۔۔؟

 ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے، پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری عریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے، زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

 زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا۔۔۔

 زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں میں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

’’زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ‘‘

   کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

 پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے، یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔