پاکستان ، عرب دنیا کو مسیحا مل گیا
تحریر:عدیل احمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد جہاں عرب ممالک کی جانب سے اس حملے کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں عرب ممالک بے بہا پیسہ اور اربوں ڈالر کا دفاعی بجٹ ہونے کے باوجود پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور گزشتہ چند دن کے دوران پاکستان نے عرب دنیا میں ایک خاص اہمیت حاصل کر لی ہے ،،، وزیر اعظم شہباز شریف کبھی قطری حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تو کبھی سعودی شہزادے محمد بن سلمان سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں کمزور سمجھنے والے عرب ممالک ایک دم پاکستان کو مسیحا کیوں سمجھ رہے ہیں؟ تو اس کا بہت واضح جواب پاکستان کی وہ عسکری طاقت ہے جس کا ایک مختصر سا مظاہرہ مئی 2025 میں بھارت کے خلاف دکھایا گیا تھا جب پاکستان نے اپنے سی کئی گنا بڑی فوجی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
دوسری اہم وجہ چائنا کا ساتھ ہے جو پاکستان کو حاصل ہے اور بہت جلد پاکستان کو چائنہ کا بنایا دنیا کا سب سے تیز اور تباہ کن میزائیل ڈی ایف 41 بھی ملنے والا ہے جبکہ جے 35 لڑاکا طیارے اڑانے کی مشقیں تو پاکستانی پائلٹ پہلے ہی سے چین میں کر رہے ہیں ،،،
چونکہ عرب ممالک امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اور نہیں چاہتے کہ وہ براہ راست چین سے کوئی دفاعی معاہدہ کریں اس لیے ان کے پاس سب سے بہترین حل پاکستان کی شکل میں موجود ہے۔
قطر سمیت مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک پاکستان کی سربراہی میں اسرائیل کو نکیل ڈالنے کا پروگرام بنا رہے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ امریکا انہیں کسی بھی وقت دھوکا دے سکتا ہے ،،، عرب ممالک کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ چین کی جانب سے دنیا کا سب سے خطرناک میزائل ڈی ایف 41 جس نے امریکا سمیت مغربی دنیا کو پریشان کر رکھا ہے ،،، یہ میزائل بہت جلد یعنی دسمبر 2025 میں پاکستان کو ملنے والا ہے ،،، جی ہاں ،،، ذرائع کے مطابق ڈی ایف 41 کی پہلی کھیپ جو 30 میزائلوں پر مشتمل ہے وہ دسمبر میں پاکستان کے حوالے کی دی جائے۔
اس خوفناک اور تباہ کن میزائل کی رینج 12,000–15,000 کلومیٹر ہے اور یہ ماک 25 کی رفتار سے پرواز کرتا ہے یعنی 31 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے ،،، جس نے اس کو عالمی سطح پر دنیا کا سب سے تیز ترین میزائل کا درجہ دیا ہے ،،، چین کی جانب سے یہ میزائل ملنے کے بعد پاکستان دنیا میں میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے 4 بڑے ممالک کے ساتھ کھڑا ہو گا جس میں روس، امریکہ اور چین پہلے سے شامل ہیں۔
عرب ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ ڈی ایف 41 کی رفتار اتنی تیز ہے کہ امریکا اور اسرائیل سمیت دنیا کا کوئی فضائی دفاعی نظام اس کو روک نہیں سکتا اور صرف ایک میزائل اتنی تباہی پھیلاتا ہے جتنی 50 میزائل بھی نہیں پھیلا سکتے ،،، اس لیے عرب ممالک چاہتے ہیں کہ جس طرح امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کے قطر کے خلاف ڈبل گیم کھیلی اسی طرح وہ چین سے براہ راست دفاعی ٹیکنالوجی اپنے پاس منتقل کرنے کی بجائے براستہ پاکستان یہ ٹیکنالوجی حاصل کریں۔
اس مقصد کے لیے نیٹو طرز کا ایک مسلم اتحاد بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کا مقصد یہ ہو گا کہ کسی ایک مسلم ملک پر حملہ تمام مسلم ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس مسلم اتحاد کی سربراہی جنگ مئی کے فاتح پاکستان کے حصے میں آئے گی کیونکہ پاکستانی افواج بھارت کے خلاف اپنی بھرپور صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں اسرائیل کی جانب سے کسی بھی جارحیت کو روکنے کے لیے کیا کیا جائے گا تو اس کے لیے ایک آپشن یہ بھی زہر غور ہے کہ مشرق وسطی میں مسلم اتحاد کا ایک فوجی اڈہ قائم کیا جائے جہاں اتحاد میں شامل تمام مسلم ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کی بھرپور نمائندگی ہو اس مقصد کے لیے پاکستان پہلی ترجیح ہے کیونکہ پاکستانی افواج میزائلوں، فضائی دفاعی نظاموں اور لڑاکا طیاروں سمیت جو جنگی ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں وہ ساری پاکستان کی اپنی یا چین کی بنائی ہوئی ہے اور اس تک امریکا سمیت کسی مغربی ملک کی رسائی نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ترکیہ اور ایران کو بھی اس میں اہم کردار ملتا ہوا نظر آرہا ہے کیونکہ ترکیہ اپنی ڈرون ٹیکنالوجی اور ایران اپنی میزائل ٹیکنالوجی کی وجہ سے پوری دنیا میں شہرت رکھتے ہیں اور ایرانی میزائلوں نے تو اسرائیل کے ساتھ جنگ میں وہ تباہی پھیلائی تھی جو اسرائیل صدیوں یاد رکھے گا۔
اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ مسلم دنیا کی فوج کے لیے بنانی جانے والی بیس مکمل طور پر امریکی اور مغربی دفاعی ٹیکنالوجی سے پاک ہو گی اور اس بیس کی بنیاد چین، پاکستان، ترکیہ اور ایران کی ٹیکنالوجی پر رکھی جائے گی ،،، اس سلسلے میں اہم میل ملاقاتیں جاری ہیں اور حتہ کہ برسوں کے حریف سعودیہ اور ایران بھی اکٹھے نظر آرہے ہیں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سعودی شہزادے محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔
اگر مشرق وسطی میں امریکی غنڈے اسرائیل کو سبق سکھانے کے لیے مسلم افواج کی بیس بنی تو وہاں چینی ساخیہ جے 10 سی، پاکسانی ساختہ جت ایف 17 تھنڈر بلاک تھری، ڈی ایف 41 میزائل، ترکیہ کے تباہ کن ڈرون اور ایرانی میزائل نصب ہوں گے جو کسی بھی اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں۔ بلکہ اگر مسلم دنیا کا یہ اتحاد بن گیا اور مسلم افواج کی مشرق وسطی میں فوجی بیس بن گئی تو مشرق وسطیٰ کا غنڈہ کوئی بھی حرکت کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر