پاکستانی ریپر کابھارتی پرچم تھامنے کامنظروائرل،سرحد پار تعاون یا ثقافتی حساسیت؟
تحریر؛ زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستانی ہپ ہاپ سین کے نمایاں نام طلحہ انجم ایک بار پھر سوشل میڈیا کے ہاٹ ٹاپک بن گئے ہیں، حالیہ دنوں ایک کنسرٹ کی وائرل ویڈیو منظرِ عام پر آئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریپر نے پرفارمنس کے دوران بھارتی پرچم تھام رکھا ہے۔
اس منظر نے پاکستان کے شوبز اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔کیا موسیقی سرحدیں مٹا سکتی ہے، یا قومی علامتوں کے استعمال میں فنکاروں کو زیادہ حساس ہونا چاہیے،اگرچہ مرکزی پاکستانی میڈیا نے ابھی تک اس واقعے پر باضابطہ رپورٹنگ نہیں کی مگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمزخصوصاً TikTokپر موجود متعدد کلپس واضح طور پر یہی دکھا رہے ہیں کہ پاکستانی ریپر طلحہ انجم نے اپنی پرفارمنس کے دوران بھارتی پرچم ہاتھ میں لیا، لہٰذا معاملہ محض افواہ نہ ہو۔
یہ اقدام فنکارانہ آزادی یا غیر ضروری جذباتیت؟
طلحہ انجم پاکستان کے ان نوجوان آرٹسٹس میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے ایک نئی موسیقی کی نسل کو شناخت دی ہے،ان کی فنکاری میں اکثر سپنٹینیئس ایکسپریشن ہوتا ہے مگر کسی ملک کے پرچم کو تھامنا محض ایک آرٹسٹک لمحہ نہیں سمجھا جاتا یہ ایک علامتی قدم ہوتا ہے جو کئی طرح کے معنی رکھتا ہے،کچھ حلقوں کے مطابق شاید یہ ایک سرحد پار ہم آہنگی کا پیغام تھا۔
ممکن ہے کسی بھارتی مداح نے پرچم دیا ہو جسے فنکار نے احتراماً تھام لیا یا پھر یہ ایک پرفارمنس سٹنٹ ہو جو غلط سمت میں تاثر لے گیامگر پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول اور پاک بھارت کشیدگی کے بیک گراؤنڈ میں یہ عمل سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ کوئی پاکستانی فنکار بھارت سے متاثر یا منسلک دکھائی دیا ہے،اس سے قبل بھی پاکستانی گلوکار بالی وڈ کے لیے گانے ریکارڈ کر چکے ہیں، پنجابی موسیقی میں پاکستان کے گلوکار اور بھارتی پروڈیوسرز ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں کئی پاکستانی اداکار بھارتی پنجابی فلموں میں کردار نبھا چکے ہیں۔
سوشل میڈیا کو دیکھیں تو ہزاروں پاکستانی میوزک پروڈیوسرز اور ریپرز بھارتی آرٹسٹس کے ساتھ آن لائن کولیبریشن کر رہے ہیں،دونوں ملکوں کے شائقین میں موسیقی کا ذوق بھی مشترک ہے،ریدم، پنجابی فلو، صوفیانہ رنگ، اور ہپ ہاپ کلچر نے سرحد کو تکنیکی طور پر کمزور کر دیا ہے۔
اسی لیے کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شاید طلحہ انجم کا بھارتی پرچم تھامنا “موسیقی دو ملکوں کو جوڑتی ہے” کا پیغام تھا۔
یہ بات اہم ہے کہ پاکستان میں قومی علامتوں کا احترام ایک حساس معاملہ ہے،کچھ لوگ فنکار کو غیر ذمہ دارانہ عمل کا مرتکب سمجھ رہے ہیں
کچھ اسے پاکستانی شناخت کی کمزوری کا تاثر قرار دے رہے ہیں،کچھ اسے جان بوجھ کر کی گئی پبلسٹی بھی کہہ رہے ہیں،جبکہ ایک طبقہ اسے موسیقی کے غیر سیاسی ایونٹ کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کر رہا ہے،ایسے واقعات میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ فنکار کی نیت یا پیغام کہیں غلط فہمی کا شکار ہو جائے۔
یہ واقعہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے اُس پہلو کو بھی سامنے لاتا ہے جو ہمیشہ پردے کے پیچھے رہتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے سیاسی تعلقات ہمیشہ ہی تناؤ کا شکار رہے ہیں،سرحدی کشیدگی، بیانات، پابندیاں یہ سب مل کر ماحول کو بھاری رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود موسیقی بارہا دونوں ملکوں کو قریب لانے کی کوشش کرتی رہی ہے مگر جب کوئی فنکار کسی ملک کے پرچم کے ساتھ نظر آئے تو معاملہ فنکارانہ اظہار سے نکل کر سفارتی حساسیت میں داخل ہو جاتا ہے۔
طلحہ انجم کا معاملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ شہرت کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے، سرحد پار تعاون کرتے وقت تشریح کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں پرچم جیسی قومی علامت کو تھامنے سے پہلے سوچنا ضروری ہوتا ہے، فنکاروں کے لیے اپنی نیت صاف رکھنا ضروری لیکن اسے سمجھایا بھی جانا چاہیے
طلحہ انجم کے خلاف عوامی ردعمل آئے،میڈیا میں بحث چھڑے،یا پھر فنکار کو وضاحتی بیان دینا پڑے۔
طلحہ انجم کی وائرل ویڈیوچاہے وہ سادگی تھی،اظہار تھا یا شعوری فیصلہ نے ایک بار پھر اس بحث کو چھیڑ دیا ہے کہ فنکار کا کام سرحدیں مٹانا ہے یا قومی حساسیت کا خیال رکھنا۔
میوزک یقیناً دلوں کو جوڑتا ہے مگر پرچم ایسی علامت ہے جو قوموں کے جذبات سے بندھی ہوتی ہے۔
لہٰذا فنکارانہ آزادی ہو یا ثقافتی تعاون،اس کا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ننھی بچی کی معصومانہ حرکت نے ڈکیتی ناکام بنا دی