جادو اور جنات حقیقت، جعلی عالموں نے اسےکاروبار بنا لیا:مولانا امیر حمزہ
پروگرام ’’ نور سحر‘‘ میں علمی نشت کا انعقاد، ’’ جادو، ٹونہ، بدنظری اور بدشگونی‘‘ موضوع
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)معروف ٹی وی پروگرام ’’نورِ سحر"‘‘میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع ’’ جادو، ٹونہ، بدنظری اور بدشگونی‘‘تھا،مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ جادو اور جنات کا ذکر قرآن و حدیث میں موجود ہے، لیکن معاشرے میں جعلی عاملوں نے اسے کاروبار بنا لیا ہے۔
جسٹس (ر) نذیر غازی نے کہا کہ جادو کا وجود حقیقت ہے لیکن ہمارے معاشرے میں خوف، توہمات اور جعلی عاملوں نے اسے ایک کاروبار بنا دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قرآنِ پاک، آیت الکرسی، سورۃ الفلق و الناس، نماز اور باوضو رہنے سے ایک مسلمان اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔
انہوں نے فریب کار جعلی عاملوں اور پیروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کے خوف کا فائدہ اٹھا کر انہیں لوٹتے ہیں۔
مزید پڑھیں:ایڈیشنل آئی جی آغایوسف کےوالدانتقال کرگئے
انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ دم فرماتے تھے، اور حسنین کریمینؓ پر بھی دم کیا کرتے تھے۔
تہمینہ یاسر نے کہا کہ زیادہ تر مسائل جادو نہیں بلکہ ذہنی دباؤ، وہم اور خوف کے اثرات ہوتے ہیں۔
Belief System اگر خوف پر بن جائے تو انسان ہر مسئلہ اسی سے جوڑ لیتا ہے، جبکہ قرآن اور ذکر ذہن کو مثبت توانائی دیتے ہیں۔
پروفیسر احسن اویس نے معاشرتی تربیت کو اصل مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بچپن سے بچوں کو غیر ضروری ڈر سکھانے سے بڑے ہو کر ہر مسئلہ جادو سمجھ لیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بلی کا راستہ کاٹنا، شیشہ ٹوٹنا اور جنازے کے بعد غسل سب بے بنیاد توہمات ہیں۔