کرپشن الزامات پر معطل سابق ڈی جی این سی سی آئی اے کا ہائیکورٹ سے رجوع، انکوائری روکنے کی استدعا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احتشام کیانی/بابر شہزاد ترک)بھاری کرپشن معاملات پر معطل این سی سی آئی اے کے سابق ڈی جی کا ہائیکورٹ سے رجوع، انکوائری افسر پر جانبداری کا الزام، انکوائری افسر کی تبدیلی، ریکارڈ کی فراہمی تک انکوائری کارروائی، گواہان کے بیانات اور رپورٹ روکنے کی استدعا کر دی۔
24 نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل، این سی سی آئی اے وقار الدین سید نے اپنے خلاف جاری محکمانہ انکوائری اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں دفاع کیلئے مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا اور انکوائری کارروائی منصفانہ ٹرائل کے حق کے منافی ہے، وقار الدین سید نے عدالت سے انکوائری کارروائی روکنے اور غیر جانبدار انکوائری افسر مقرر کرنے کی استدعا کی ہے۔
24 نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) وقار الدین سید نے اپنے خلاف وزیراعظم کی منظوری سے شروع کی گئی محکمانہ انکوائری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انکوائری کی کارروائی آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں وقار الدین سید نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذریعے وفاق، وزارت داخلہ اور انکوائری افسر کو فریق بنایا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 3 جون 2026 کو چارج شیٹ اور الزامات کی تفصیلات جاری کیں جبکہ چارج شیٹ انہیں 5 جون کو موصول ہوئی۔ درخواست گزار کے مطابق انہیں تحریری جواب جمع کرانے کے لیے 14 دن کا قانونی وقت دیا جانا چاہیے تھا، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ الزامات کے دفاع کے لیے متعلقہ ریکارڈ، دستاویزی ثبوت اور رپورٹس فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم بارہا مطالبے کے باوجود مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، مزید کہا گیا ہے کہ تحریری جواب جمع کرانے کی قانونی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی گواہان کو بیانات ریکارڈ کرانے کے نوٹس جاری کر دیے گئے، جو غیرقانونی اور جلد بازی پر مبنی اقدام ہے۔
درخواست کے مطابق انکوائری افسر کی تبدیلی کی درخواست بھی زیر التواء ہے لیکن اس کے باوجود کارروائی جاری رکھی گئی ہے، انکوائری افسر نے 16 جون 2026 کو گواہان اور ثبوت ریکارڈ کرانے کے نوٹس جاری کیے، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس انکوائری افسر کی آزادانہ حیثیت کے بجائے این سی سی آئی اے کے لیٹر ہیڈ پر جاری کیے گئے، جو قانونی طور پر ایک سنگین نقص ہے، درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انکوائری کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر کو مقام کے طور پر منتخب کرنا دباؤ ڈالنے اور کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انکوائری افسر کی تبدیلی اور مطلوبہ ریکارڈ کی فراہمی تک انکوائری کارروائی، گواہان کے بیانات اور حتمی رپورٹ مرتب کرنے کا عمل روکا جائے، درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو انکوائری افسر کی تبدیلی کی درخواست پر مقررہ مدت میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دے، جبکہ آرٹیکل 10 اے کے تقاضوں کے مطابق غیرجانبدار انکوائری افسر مقرر کرنے اور غیر جانبدار مقام پر انکوائری کرانے کا حکم بھی جاری کیا جائے۔
واضح رہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے معطل ڈائریکٹر جنرل اور پولیس سروس گریڈ 20 کے ڈی آئی جی وقار الدین سید کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت ستانی اور سرکاری فرائض میں غفلت کے الزامات پر مشتمل ’’اسٹیٹمنٹ آف الیگیشنز‘‘ جاری کرتے ہوئے باضابطہ محکمانہ کارروائی شروع کر رکھی ہے، 24 نیوز کو اس بارے دستیاب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی دستاویز کے مطابق وقار الدین سید پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بطور ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے اپنے ماتحت افسران کے ذریعے مختلف سرکل دفاتر میں مبینہ طور پر بھتہ خوری اور غیر قانونی رقوم کی وصولی کی حوصلہ افزائی کی، الزامات کی بنیاد ماتحت افسران چوہدری سرفراز (ایڈیشنل ڈائریکٹر، این سی سی آئی اے لاہور)، زوار احمد (ڈپٹی ڈائریکٹر، این سی سی آئی اے لاہور) اور محمد عثمان (ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز، ہیڈکوارٹرز) کے تحریری بیانات اور ویڈیو ریکارڈ شدہ اعترافات کو قرار دیا گیا ہے، دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ معطل افسر نے مختلف سرکل دفاتر میں تعینات ماتحت افسران سے تقرریوں اور دفتری امور کے حوالے سے مبینہ طور پر غیر قانونی مالی فوائد اور رشوت وصول کی، ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مختلف علاقوں میں سرگرم غیر قانونی کال سینٹرز کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کیا اور اس کے عوض ’’پروٹیکشن منی‘‘ وصول کرنے کے الزامات کا سامنا ہے، جس سے ان کی دیانتداری، غیر جانبداری اور سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی پر سوالات اٹھے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے عائد کردہ الزامات میں کہا گیا ہے کہ وقار الدین سید نے مبینہ طور پر اپنے ہم خیال افسران کو مختلف سرکل دفاتر اور آپریشنل عہدوں پر مالی اور ذاتی مفادات کے تحت تعینات اور برقرار رکھا، جس سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا تاثر پیدا ہوا۔
مزید برآں ان پر این سی سی آئی اے کی ناقص انتظامی نگرانی اور کمزور قیادت کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ادارے کی ساکھ کو میڈیا اور عوامی سطح پر نقصان پہنچا، دستاویز میں ان کے اثاثوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، ریکارڈ کے مطابق 2002 میں ان کی مجموعی مالیت 24 لاکھ 60 ہزار روپے تھی جو 2018 میں بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 9 لاکھ 92 ہزار روپے تک پہنچ گئی، اس غیر معمولی اضافے کے بارے میں ان سے آمدن کے معلوم ذرائع اور قانونی حیثیت کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق مذکورہ الزامات بادی النظر میں سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، دیانتداری کے فقدان اور سرکاری ملازم کے شایانِ شان طرزِ عمل سے انحراف کے زمرے میں آتے ہیں، ذرائع کے مطابق الزامات کی تحقیقات اور محکمانہ کارروائی کے آئندہ مراحل متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔
24 نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اسی معاملے میں جاری کردہ ’’انکوائری آرڈر‘‘ کے مطابق وزیراعظم، بطور مجاز اتھارٹی، نے نیشنل سکیورٹی ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری سلمان چوہدری ( پولیس سروس/گریڈ 21) کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت وقار الدین سید کے خلاف الزامات کی مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں، انکوائری افسر کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی رپورٹ میں واضح طور پر نشاندہی کریں کہ عائد کردہ الزامات ثابت ہوتے ہیں یا نہیں، اور ساتھ ہی ملزم افسر کو بری کرنے یا معمولی یا بڑی سزا تجویز کرنے کے بارے میں سفارشات بھی پیش کریں، وزارت داخلہ و انسدادِ منشیات کے ایک سیکشن افسر کو محکمانہ نمائندہ مقرر کیا گیا ہے جو انکوائری کارروائی میں متعلقہ قواعد کے تحت فرائض انجام دیں گے، 24 نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وقار الدین سید کے خلاف الزامات بادی النظر میں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، دیانتداری کے فقدان اور سرکاری ملازم کے شایانِ شان طرزِ عمل سے انحراف کے زمرے میں آتے ہیں، جن پر سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، ذرائع کے مطابق انکوائری مکمل ہونے کے بعد مجاز اتھارٹی حتمی فیصلہ کرے گی۔
قبل ازیں، سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر جنرل وقارالدین سید، جنہیں ڈکی بھائی کیس میں بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا تھا، نے انکوائری آفیسر سے اہم دستاویزات اور شواہد فراہم کرنے کیلئے باقاعدہ تحریری درخواست کی تھی، یہ تحریری درخواست انہوں نے نیشنل سیکورٹی ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری/انکوائری آفیسر سلمان چودھری کو بھیجی ہے، وقارالدین سید نے اپنے خلاف جاری ڈیپارٹمنٹل انکوائری کے لیے تمام متعلقہ دستاویزات، تحریری بیانات، اور اگر موجود ہوں تو ویڈیو/آڈیو ریکارڈنگز اور ٹرانسکرپٹس طلب کی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انکوائری میں اپنا تحریری جواب جمع کروانے کے لیے ان دستاویزات کا حصول ضروری ہے، واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وقارالدین سید کو این سی سی آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، یہ کارروائی مشہور یوٹیوبر ڈکی بھائی کے خلاف تحقیقات کے دوران این سی سی آئی افسران کی جانب سے مبینہ طور پر بھاری رشوت لینے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کیس میں سامنے آئی تھی، تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، اس بدعنوانی میں ملوث افسران نے ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی سے تقریباً 1.9 کروڑ روپے وصول کیے تھے، اس سلسلے میں این سی سی آئی افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جن میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، ڈپٹی ڈائریکٹر زوار احمد اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض شامل تھے، تاہم، وقارالدین سید کو خود ان الزامات میں براہ راست ملوث نہیں کیا گیا تھا اور انہیں محض عہدے سے ہٹا کر ابتدائی طور پر او ایس ڈی بنایا گیا تھا، اب ریکارڈ طلب کرنے کا یہ اقدام ان کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کا مفت سولر سسٹم کی تقسیم کا اعلان ،شہریوں کیلئے اہم خبر آ گئی