75 ممالک کیلئے امریکی ’امیگریشن ویزا پراسیس‘ معطل: پاکستان پر پابندی کیوں لگی؟

تحریر :میاں افتخار رامے

Jan 17, 2026 | 20:28:PM
75 ممالک کیلئے امریکی ’امیگریشن ویزا پراسیس‘ معطل: پاکستان پر پابندی کیوں لگی؟
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

امریکا نے  پاکستان سمیت دنیا کے 75 ممالک کے شہریوں کی امیگرنٹ ویزا کی کارروائی 21 جنوری سے معطل کردی ہے ۔ اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس پابندی سے متاثر ہونے والے ممالک میں براعظم ایشیا، افریقہ اور یورپ کے مختلف ممالک شامل ہیں۔ 

یہاں پر دلچسب بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ’امیگریشن ویزا پراسیس‘ پرپابندی کا جب فیصلہ لیا تو اس کے چند گھنٹے پہلے پاکستان کے  فیلڈ مارشل عاصم منیر ، ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک ، وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار ، وزرا  کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک معاہدہ سائن کررہے تھے . معاہدہ Zach Witkoff کی کرپٹو کمپنی جس میں صدر ٹرمپ کے بیٹوں کے چالیس فیصد شئیر ہیں کے ساتھ کیا گیا ۔معاہدے کے مطابق ورلڈ لبرٹی فنانشل نامی کرپٹو کمپنی کے ساتھ اسٹیبل کوائن کے ذریعے سرحد پار ادائیگیاں شروع کرنے کا جائزہ لیا جائے گا۔جو شاید 30 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہیں ۔

ورلڈ لبرٹی فنانشل نامی کرپٹو کمپنی کا مالک زیک ویٹکوف ہے اس کمپنی میں 40 فیصد شئیر صدر ٹرمپ کے بیٹوں اور باقی شئیرز زیک ویٹکوف کے ہیں ۔زیک ویٹکوف کے والد  Steve Witkoff اس وقت صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی کی حثیت سے کام کر رہے ہیں ۔ 

ورلڈ لبرٹی فنانشل نامی کرپٹو کمپنی کے ساتھ معاہدے کے چند گھنٹے بعد صدر ٹرمپ نےاپنے فیورٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ملک پر ویزا پروسیسنگ بین لگا دیا ۔ یہاں پر اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا ہمسایہ ملک انڈیا ، سری لنکا ، فلپائن ، ویت نام ، ملائشیا ، ترکی اور سب سے بڑی آبادی والا ملک انڈونیشیا  بھی اس لسٹ میں شامل نہیں ہے۔تو پھر پاکستان پر پابندی کیوں لگائی گئی؟

امریکا کے اس غیر جانبدارانہ اقدام کے بعد پاکستان نے جمعرات کے روز کہا کہ وہ امریکی حکام سے رابطے میں ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے وزارت کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا: “امریکہ اپنی ویزا پالیسیوں کا جائزہ لے رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی پاکستان کے لیے ویزا سروسز بحال کر دے گا۔

جمعہ کے روز پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے  نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی عوام کے تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے، اسی لئے ویزا درخواست گزاروں کی  چھان بین اور جانچ پڑتال کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے، یہ معطلی لاگو رہے گی تاوقتیکہ ہم اس  امر کو یقینی  بنا سکیں  کہ  امریکی امیگریشن  کے نئے درخواست گزار  چھان بین کے مکمل عمل سے گزر چکے ہوں۔

بشمول کہ وہ امریکی سرکاری معاونت  پر انحصار نہیں کریں گے، یہ اقدام صرف امیگرنٹ ویزا کے اجراء پر لاگو ہوتا ہے، اس کا اطلاق  نان امیگرنٹ  ویزا کی درخواستوں پر نہیں ہوگا، سیاحوں،  طالب علموں، کھلاڑیوں، ہنر مند کارکنان اور ان کے اہل خانہ  کے لیے ویزا پر اس پالیسی کا اطلاق نہیں ہو گا۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری کئے گئے اس بیان  کے بعد یہ واضع ہوگیا ہے کہ امریکا میں مستقل ویزا حاصل کرنے کی معطلی عارضی نہیں ہے کیونکے پاکستان کو ان میں ممالک میں شامل کردیا گیا ہے جن کو امریکا بوجھ سمجھتا ہے جو امریکا جا کر پیسے نہیں کما پاتے بلکے امریکی سرکاری معاونت پر انحصار کرتے ہیں اور امریکی حکومت پر بوجھ بنتے ہیں۔

چند دن پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے ایسے ہی ممالک کی ایک لسٹ جاری کی تھی جس میں پاکستان تیسری اور انڈیا چوتھی لسٹ میں شامل تھا جو اتنا خطرناک نمبر نہیں سمجھا جاتا ۔لیکن ٹرمپ ایک ان پرڈیکٹ ایبل انسان ہیں وہ کبھی بھی کہیں بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں. شاید یہ لسٹ اس لیے تو جاری نہیں کی  گئی کہ امریکا ، ایران میں رجیم چینج کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ "ڈِگا کھوتے توں غصہ کمیار تے"

یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات