پاکستان کیساتھ تعلقات کا جائزہ۔امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر حیرت ہوئی ۔ترجمان دفتر خارجہ 

Sep 16, 2021 | 20:06:PM
پاکستان کیساتھ تعلقات کا جائزہ۔امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر حیرت ہوئی ۔ترجمان دفتر خارجہ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

  (24نیوز)ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان پر افغانستان کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی دباؤنہیں ، بھارت میں ایٹمی مواد کی غیر قانونی فروخت کے معاملے پر تشویش ہے۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے جائزہ کے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے بیان پر حیرت اور مایوسی ہوئی ،پاکستان افغان تنازعہ کے سیاسی حل کا خواہاں ہے افغانستان کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کسی بھی دباؤے بغیر اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
 عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے افغان عمل میں سہولت کاری کی ہے۔ پاکستان ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے ۔ روس اور چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعلقات شراکت داری پر مبنی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر کوئی بات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت میں ایٹمی مواد کی غیر قانونی فروخت کا معاملہ خود بھارتی میڈیا نے اٹھایا ہے۔ پاکستان کو اس معاملے پر شدید تشویش ہے۔ اس معاملہ کو پاکستان متعلقہ فورمز پر اٹھائےگا۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری ہے پاکستان نے 12 ستمبر کو عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈوزیئر جاری کیا عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر پر سوچ بچار کرنا ہو گی۔ 
ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے بھارت جعلی مقابلوں اور فالس فلیگ آپریشنز سے اپنی خفت مٹانے کی کوشش میں ہے۔ عاصم افتخار نے کہا کہ وزیر اعظم ایس سی او اجلاس کیلئے دوشنبے پہنچے ہیں وزیر اعظم کا یہ وسط ایشیائی ممالک کا تیسرا دورہ ہے اور اعلیٰ وفد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہے۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم اور روسی صدر نے ٹیلیفونک رابطہ میں افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے حکمت عملی پر بات چیت کی۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے منگل کو پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان اس وقت تک افغانستان کو تسلیم نہ کرے جب تک طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کرتے۔انتھونی بلنکن نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ہمارا اتحادی رہا لیکن پاکستان نے ہمارے مفادات کیخلاف کام بھی کیا۔اس تناظر میں امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لے گا۔
یہ بھی پڑھیں۔شلپا شیٹھی کا ہاٹ شاٹس اور بولی فیم ایپلی کیشن سےمتعلق چونکا دینے والاانکشاف