فیصلے اب پارلیمنٹ میں نہیں سڑکوں پر ہونگے، پارلیمنٹ کی حیثیت ختم ہو چکی،مولانا فضل الرحمان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ساجد بلوچ)جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہےکہ فیصلے اب پارلیمنٹ میں نہیں سڑکوں پر ہوں گے، پارلیمنٹ کی حیثیت ختم ہو چکی، اب عوامی قوت فیصلہ کرے گی،اسلام آباد کو جاہل حکمرانوں سے آزاد کرائیں گے۔ٹرمپ کہتا ہے میں خونریزی روکنا چاہتا ہوں ہم جانتے ہیں ڈھائی سال تک تم نے وہاں خونریزی کرائی ہے۔اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، پاکستان و افغانستان کے درمیان فوری مذاکرات کی ضرورت ہے۔
ڈیرہ اعیل خان بیساکھی گرائونڈ میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نےکہا کہ 1973 میں جو اسلامی نظریاتی کونسل بنی اسکی سفارشات مکمل ہوئیں، پارلیمنٹ میں آئے لیکن آج تک کسی ایک دفعہ پر بھی قانون سازی نہیں کی گئی ، ڈکٹیٹروں کے دور میں گزرے ضیاء الحق نے اسلام کے نام پر 11 سال حکومت بھی کی ہے ، ضیاء الحق کے دور میں کوئی قانون سازی نہیں قوم کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا۔جب قادیانیت کا کیس پارلیمنٹ میں لایا گیا اور قادیانی قیادت کو پارلیمنٹ کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا گیا۔ جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ اسلام کی سربلندی کے لیے کام کیا، مفتی صاحب نے اپنی سیاست کے صرف 20 سالوں میں انقلاب برپا کر دیا یہاں پر قوانین کا راج تھا،انگریز کے غلاموں کا راج تھا، مفتی صاحب نے ان کو چیلنج کیا انہیں سرنگوں کیا ان کے جبر کا خاتمہ کیا تھا ، ہم نے امریکہ اور یورپ کے مداخلتیں دیکھی اس سرزمین پر کئی معاہدات پہلے ہوچکے ہیں، ہر معاہدے کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطین کو کمزور کیا گیا اور اسرائیل کو طاقتور بنایا گیا۔ ٹرمپ کہتا ہے میں خونریزی روکنا چاہتا ہوں ہم جانتے ہیں ڈھائی سال تک تم نے وہاں خونریزی کرائی ہے ،70 ہزار فلسطینیوں کا قتل عام کرایا،آپ نے مسلمانوں اور فلسطینیوں کے قتل عام کے لیے 2023 میں 21 ارب ڈالر کی امداد ان کو دی، آپ نے مسلمانوں کو قتل عام کرنے کے لیے ان کو لڑاکے طیارے اور راکٹ میزائل فراہم کئے ہیں،جنیوا انسانی حقوق کنونشن کے اصول کسی عام شہری پر بمباری کی اجازت دیتے ہیں کیا ؟۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا چارٹر وہ محفوظ انسانیت پر اس طرح کی بمباری کی کیا اجازت دیتا ہے؟اسرائیل نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو زخمی کیا ہے اتنے ہی لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، فلسطین میں بیماریوں کی وجہ سے ہزاروں تک اموات پہنچ گئی ہیں یہ انسانی جرم نہیں ہے، اسرائیل اور نیتن یاہو اس انسانیت کے مرتکب ہونے پر عالمی عدالت انصاف نے انسانی جرم کا مرتکب قرار دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نےمزید کہا کہ بیس سال کی جدوجہد کے بعد عوام کو اپنا حق واپس دلائیں گے، پارلیمنٹ غلام ادارہ بن چکی ہے،ہماری جدوجہد قرآن و سنت اور عوام کی مرضی کے مطابق نظام کے لیے ہے،امریکی حمایت یافتہ جمہوریت کو مسترد کرتے ہیں،معاشرے میں فحاشی و عریانی کو آزادی کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے،نوجوان مفتی محمود کے نظریے کو اپنائیں، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،اسرائیل ایک لعنتی ریاست ہے جو امن معاہدوں کی خلاف ورزی کرتی ہے،ٹرمپ امن کے نام پر جنگ مسلط کر رہا تھا،پاکستان مزید جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہماری کمزور خارجہ پالیسی نے ہمیں عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے،چین کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے، ہمیں پالیسی بدلنا ہو گی،ہم اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے،پاکستان و افغانستان کے درمیان فوری مذاکرات کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:2025 میں سب سے زیادہ رکھے جانیوالے بچوں کے ناموں کا اعلان