مظاہرین سے آخری منٹ تک مذاکرات کئے،محسن نقوی۔۔شہید انسپکٹر کا کیا قصور اسے 21 گولیاں ماریں،عطا تارڑ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ مظاہرین سے آخری منٹ تک مذاکرات ہوتے رہے،مظاہرین قاتلوں کو جیلوں سے رہا کروانے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔صرف ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جنہوں نے ہتھیار اٹھا رکھے تھے ، یہ تاثر کہ تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوئے ، غلط ہے ، ہم سب کل یوم تشکر منائیں گے ۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کا کہنا ہےکہ شہید انسپکٹر کا کیا قصور تھا کہ اسے اکیس گولیاں ماری گئیں،جلائو گھیراؤ اور امن تباہ کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی وزراء محسن نقوی،عطاتارڑ،سردار محمد یوسف نے نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی مظاہرین کے نکلنے سے پہلے سے لیکر آخری منٹ تک مذاکرات ہوتے رہے ، ان سے کہا تھا کہ آپ واپس جائیں کچھ نہیں کہا جائے گا ،ہر دفعہ مظاہرین کی شرائط بڑھتی رہیں ، مظاہرین قاتلوں کو جیلوں سے رہا کروانے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ صرف ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جنہوں نے ہتھیار اٹھا رکھے تھے ، یہ تاثر کہ تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوئے ، غلط ہے ، ایسا کیا ہوگیا ہے کہ پاکستان میں ہر 15 روز بعد بڑا احتجاج ضروری ہوگیا ؟ صرف پر تشدد لوگوں سے ہم نے سڑک کلئیر کروائی ، ایک دہشتگرد کو جیل سے رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ، گن پوائنٹ پر لوگوں کی گاڑیاں جلوس میں شامل کروائی گیں ، فوٹیجرز ہیں کہ کس طرح گن پوائنٹ پر گاڑی اپنے قافلے میں شامل کروا رہے تھے ،ٹی ایل پی کے عہدے داروں کے علاوہ کسی مدرسے یا عالم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی ۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہم سب کل یوم تشکر منائیں گے ،فیصلہ انکو کرنا ہے کہ کل یوم تشکر منائیں گے یا اسلحہ بردار احتجاج کرنا ہے،علمائے کرام کل ہمارے ساتھ یوم تشکر منائیں گے ۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ فلسطینی صدر نے پاکستان اور شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا ، فلسطینی لوگوں نے جنگ بندی پر اللہ کا شکر ادا کیا ،پوری دنیا میں احتجاجی مظاہرے ہوئے کہیں ایک پتہ نہیں ٹوٹا ،ٹی ایل پی جدید اسلحہ ، غلیلیں اور دیگر چیز یں لیکر نکلی ،اس جماعت کو کیا حق تھا کہ قومی املاک کو نقصان پہنچائیں ،پاکستان نے ہر طرح سے فلسطینی بہن بھائیوں کا ساتھ دیا، جنگ بندی معاہدے پر فلسطینی سجدہ ریز ہوئے،مہذب دنیا میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کئے گئے،ایس ایچ او کو گاڑی سے نکال کر 21 گولیاں ماری گیں ، شہید انسپکٹر کا کیا قصور تھا کہ اسے اکیس گولیاں ماری گئیں، جلائو گھیراؤ اور امن تباہ کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، سو سے زائد پولیس اہلکاروں خو احتجاج کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا،احتجاج کے نام پر پر تشدد کارروائیاں کی گئیں ، یہ کیسا احتجاج ہے جس میں جدید ترین اسلحہ استعمال کیا گیا ، شہید ہونے والے پولیس انسپکٹر کا کیا قصور تھا ۔
یہ بھی پڑھیں:کل کسی بھی شخص کو ہڑتال کی آڑ میں سڑکوں پر آنے کی ہرگز اجازت نہیں،ڈاکٹر عثمان انور