پسند کی شادی کی سزا دینے کیلئے پورا گاؤں جلانےوالے ایف آئی آر میں بچ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) جیکب آباد میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کے رشتے داروں نے دولہا کا پورا گاؤں جلا دیا ۔ گاؤں کے ایک سو بیس گھر جلے، اب گاؤں کے تمام گھرانے زندگی گزارنے کے ساز و سامان سے محروم کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ جلنے والے سامان میں ایک ہفتہ پہلے بیاہ کر آئی دلہن کا جہیز بھی شامل ہے۔ پولیس نے ایف آئی آر مین پورے گاؤں کو جلانے کے ذمہ دار با اثر افراد کے نام شامل نہیں کئے۔
جیکب آباد کے نواحی علاقے میرپور بُرڑو میں دو نوجوانوں کی پسند کی شادی پورے گاؤں کے لیے سزا بن گئی۔ دس دن پہلے محمد حسن بُرڑو اور سدرہ چنو نے پسند کی شادی کی۔ اس شادی کے بعد دونوں کے رشتے داروں میں کشیدگی پیدا ہوگئی دونوں نوجوان شادی ک ر کے دوسرے شہر منتقل ہوگئے۔ دولہا حسن برڑو کا پورا خاندان گاؤں صدیق آرائیں میں اپنا گھر خالی کرکے نامعلوم مقام پر منتقل ہوگیا۔
اس کے باوجود چنا برادری کے سینکڑوں افراد نے منصوبہ بندی کر کے گاؤں گوٹھ محمد صدیق آرائیں میں بُرڑو برادری کے 120 سے زیادہ گھروں پر حملہ کیا اور تمام گھروں میں ساز و سامان کو کو آگ لگا کر خاکستر کردیا۔
پولیس نے اس واقعہ کے دوران کوئی مداخلت نہیں کی۔
جیکب آباد کے گوٹھ محمد صدیق آرائیں میں 5 مئی کو پیش آنے والے بہیمیت کے واقعے میں مسلح افراد نے جدید اسلحے کے ساتھ حملہ کیا اور درجنوں گھروں کو جلا کر راکھ کر دیا۔ حملہ آور فائرنگ بھی کرتے رہے جس سے علاقے میں شدید خوف پھیل گیا۔
جب سارا گاؤں جل کر خاک ہو گیا تو بعد میں غلام شبیر بُرڑو کی مدعیت میں 32 افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت تھانہ میرپور بُرڑو میں مقدمہ درج کرلیا لیکن ایف آئی آر میں اہم ترین مجرموں کے نام ہی شامل نہیں کئے۔
اس مقدمے میں محسن علی چنو، صدام حسین چنو، عبداللہ چنو سمیت 12 افراد کو آگ لگانے میں ملوث نامزد بتایا گیا جب کہ آگ لگنے سے گھر تباہ ہونے والوں نے کئی اہم افراد کو اپنا مجرم بتایا، ان کا ایف آئی آر میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اور 20 نامعلوم افراد کو بھی ملزم بتایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی پر مسلح افراد نے پورا گاؤں جلا دیا
پولیس نے اب تک یہ کارروائی کی کہ 5 افراد کو گرفتار کرلیا لیکن باقی تمام افراد کو مفرور ظاہر کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب متاثرہ بُرڑو برادری کے وکیل نثار احمد مغیری نے بتایا ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر میں اصل مجرم چنا برادری کے بااثر افراد کے نام شامل نہیں کیے، ان بااثر افراد کے نام ایف آئی آر میں شامل کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا گیا ہے۔
