"تفریح کیلئے" بھارت کا قومی ترانہ گانے والوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا

Feb 16, 2026 | 00:32:AM
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا کی میں باچا خان یونیورسٹی میں ازلی دشمن ملک  کا قومی ترانہ گانے میں ملوث سٹوڈنٹس کے خلاف سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے فارمیسی کےچار سٹوڈنٹس کو یونیورسٹی سے نکال دیا۔ 
یونیورسٹی انتظامیہ  نے انکشاف کیا ہے کہ یونی ورسٹی کے دو روزہ فیسٹیول کے دوران  کچھ سٹوڈنٹس نے نہ صرف بھارت کا قومی ترانہ گایا بلکہ ’جے ہند‘ کے نعرے بھی لگائے۔
اس سارے عمل کی ویڈیو کلپس بنائی گئیں۔  چار سدہ کی باچا خان یونی ورسٹی میں سالانہ فیسٹیول کے دوران کسی جواز کے بغیر لوگوں کے بھارت کا قومی ترانہ پڑھنے اور جے ہند کے نعرے لگانے کی ایک ویڈیو  بعض سٹوڈنٹس نے سوشل  پلیٹ فارم پر بھی  پوسٹ کر دی۔اس ویدیو کو دیکھنے والوں میں اشتعال پیدا ہوا  جس کے بعد یہ ایک سنگین معاملہ  بن گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا پر حملہ

اس ویڈیو  پر  پاکستانی شہریوں کے ساتھ بعض  طلبہ تنظیموں نے بھی احتجاج کیا اور یونی ورسٹی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ بھارت کا قومی ترانہ بلاجواز گانے اور بھارت کی مبینہ حمایت کی تبلیغ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

طلبہ تنظیموں کے مطابق  اس ویڈیو  کے سامنے آنے کے بعد  یونی ورس ٹی کے اندر بھی پاکستانی ریاست کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔

ہم تو تفریح کر رہے تھے!

 بھارت کا ترانہ اپنی یونی ورسٹی کے فیسٹیول میں پڑھنے، جے ہند  کے نعرے لگانے، اس ساے عمل کی ویڈیوز بنا کر پھیلانے والے سٹوڈنٹس میں سے ایک   جبران ریاض نے اب دعویٰ کیا ہے کہ ہم تو تفریح کر رہے تھے۔
جبران ریاض نے ایک  ویڈیو بیان ریکارڈ کر کے اسے بھی سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا ہے اس بیان میں اس نے کہا ہے کہ بھارت کا ترانہ محض تفریح کی غرض سے گایا گیا تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ  ’جس طرح طلبہ انڈین گانے سنتے ہیں، اسی طرح یہ بھی ایک پرفارمنس تھی۔‘

یہ بھی پڑھیں: مردان میں نوجوان پہاڑی سے گر کر جاں بحق  
اس نے کہا،  ’ہماری انڈیا سے کوئی ہمدردی یا وابستگی نہیں اور ہم اپنے ملک اور مسلح افواج کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

"تفریح کیلئے" بھارت کا قومی ترانہ گانے والوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا

بعد مین یہ ہوا ہے کہ بھارت  کا ترانہ گانے میں ملوث چار افراد کو  باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے نکال دیا ہے۔ یہ چاروں لوگ یونی ورسٹی کے شعبہ فارمیسی میں زیر تعلیم تھے۔ 
آج  یونیورسٹی انتظامیہ نے  ان چار لوگوں کو نکالنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی ڈسپلنری کمیٹی کے 73ویں اجلاس کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان طلبہ نے جامعہ کی حدود کے اندر انڈیا کا قومی ترانہ مبینہ طور پر ایسے انداز میں پیش کیا جس سے بدامنی پھیلنے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ مزید یہ کہ اس واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔
یونیورسٹی سے خارج کیے گئے طلبہ کی ہاسٹل کی رہائش بھی منسوخ کر دی گئی اور انہیں فوری طور پر  ہاسٹل خالی کر کے چلے جانے کی ہدایات کی گئی۔

ی ہبھی پڑھیئے :ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی