سوشل میڈیا پوسٹ’’دو تلخ لوگ جو الگ نہیں ہو سکتے‘‘ اور پھر بھیانک انجام
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) لوگ ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو اپنے جذبات کے اظہار، اپنی خوشیاں بانٹنے اور حتیٰ کہ اپنے رشتوں کی پیچیدگیوں کو دنیا کے سامنے رکھنے کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔ کئی بار ان کی شیئر کردہ پوسٹس کسی شخص کی زندگی کی آخری گواہی ثابت ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہی ایک المناک اور چونکا دینے والا واقعہ ارجنٹائن کے شہر پیورٹو دیسیادو (Puerto Deseado) میں پیش آیا ہے، جہاں 33 سالہ ایک غیر شادی شدہ ماں مشتبہ حالات میں جل کر ہلاک ہو گئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خاتون نے حال ہی میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ “تلخ” تعلق کے بارے میں ایک پیغام پوسٹ کیا تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ اس کے اور اس کے بوائے فرینڈ کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا تھا۔ آخر کیا ہوا؟ کیا آگ خود لگی یا کسی نے خاتون کو جلا کر قتل کر دیا؟ پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ یہ واقعہ 8 دسمبر کا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 8 دسمبر کو پیورٹو دیسیادو (Puerto Deseado) کے ایک اپارٹمنٹ میں آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی پڑوسی سکتے میں آ گئے۔ پڑوسیوں نے فوراً دھوئیں کی اطلاع دی، جس کے بعد فائر بریگیڈ موقع پر پہنچی اور اپارٹمنٹ کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی۔ اندر کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ فرش پر 33 سالہ سبرینا آئلن ویگا (Sabrina Aylen Vega) کی مکمل طور پر جلی ہوئی لاش پڑی تھی۔ وہ پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں۔ فائر بریگیڈ کے حکام کے مطابق اپارٹمنٹ کا سامنے والا دروازہ کھلا ہوا تھا، مگر اندر سے اسے کئی چیزوں سے بند کیا گیا تھا۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ دروازے کے نیچے تولیے ٹھونسے گئے تھے، شاید اس لیے کہ دھواں باہر نہ نکل سکے اور کسی کو آگ لگنے کا پتا نہ چلے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے کسی گہری سازش تھی۔
یہ بھی پڑھیں:رابی پیرزادہ نے نکاح کر لیا، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
درد بھرے واقعے نے حکام کو قتل کے شبہ پر مجبور کر دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی تجزیہ کے بعد معاملے نے نیا رخ اختیار کیا۔ فوٹیج میں سبرینا کو اپنے پارٹنر میکسیمیلیانو اوویئیدو (Maximiliano Oviedo) کے ساتھ اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے دیکھا گیا، مگر آگ لگنے کے فوراً بعد میکسیمیلیانو موقع سے فرار ہو گیا۔ اس کے بعد پولیس نے اسے فوری طور پر مرکزی مشتبہ قرار دیدیا۔ اسی دن حکام نے میکسیمیلیانو کو حراست میں لے لیا، جو وادی کے قریب ایک دور دراز علاقے میں چھپا ہوا تھا۔
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ مبینہ قتل سے چند دن پہلے ایک بچے کی ماں سبرینا نے اپنے اور میکسیمیلیانو کے درمیان تعلقات کے بارے میں عوامی طور پر کچھ اشارے دیے تھے۔ اپنی موت سے صرف تین دن پہلے اس نے اپنے بوائے فرینڈ میکسیمیلیانو کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی تھی، جس کے ساتھ اس نے ایک پراسرار پیغام لکھا تھا جو ان کے رشتے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا تھا۔سبریانا نے لکھا تھا کہ ’’اور ہاں، اس کے بے وقوف چہرے اور اس سے نمٹنے میں مشکل ہونے کے باوجود، اور میرے گھٹیا غصے کے ساتھ، ہم ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں‘‘۔ آگے اس نے لکھا کہ ’’دو تلخ لوگ جو الگ نہیں ہو سکتے۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں، چاہے کسی کے لیے یہ سب ناقابلِ برداشت ہو اور کوئی اسے سمجھ نہ سکے۔’’ ان الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا رشتہ ایک ’’تلخ ڈائنامک‘‘ میں پھنسا ہوا تھا، جہاں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر بھی اذیت میں تھے، مگر الگ ہونے کے قابل نہیں تھے۔
اس نے دیگر پوسٹس بھی شیئر کی تھیں جن میں جوڑوں کے مسائل پر قابو پانے اور حالات ٹھیک نہ ہونے کے باوجود ساتھ رہنے سے متعلق میمز شامل تھیں۔ وہ اکثر ایسے جملے استعمال کرتی تھی جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے تھے کہ چاہے باقی دنیا ان کے رشتے کو نہ سمجھے، وہ ساتھ رہیں گے۔ پولیس اب پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ سبرینا کی موت آگ کی لپٹوں سے جلنے کی وجہ سے ہوئی، دھوئیں سے دم گھٹنے کے باعث یا پھر آگ لگنے سے پہلے ہی اسے کوئی اور سنگین چوٹ پہنچائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:سابق وزیراعلیٰ انتقال کر گئے