لبنان میں جنگ بندی آج رات ہو سکتی ہے،ٹرمپ کا اعلان، اسرائیلی حکام کی تصدیق
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) آج رات لبنان میں جنگ بندی ہو رہی ہے۔ یہ جنگ بندی اسرائیل اور لبنان کی براہ راست بات چیت کے بعد عمل میں آ رہی ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی روپرٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان آج رات کیا جا سکتا ہے۔
رائٹرز اور Axios کے رپورٹر بارک راوید نے اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان آج رات کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کی حکومت کی طرف سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بات نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور لبنان مذاکرات میں اہم پیشرفت، فریقین براہ راست مذاکرات پر رضامند
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات، صدر عون اور نیتن یاہو دونوں کی تصدیق
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے درمیان براہ راست بات چیت کے بعد صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے، جس کے بعد آج (16 اپریل 2026) رات تک جنگ بندی کے قوی امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
تازہ ترین ڈیویلپمنٹس درج ذیل ہیں:
جنگ بندی کا وقت
اسرائیلی فوج (IDF) کے حکام کے مطابق، لبنان میں جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز مقامی وقت کے مطابق رات 7 بجے سے آدھی رات کے درمیان کسی وقت متوقع ہے۔ اسرائیل میں شام سات بجے پاکستان میں رات کے دس بجے ہوتے ہیں۔ اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو پہلے ہی اپنی افواج کو اس جنگ بندی کے حوالے سے تیار رکھنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
امریکی صدر کا کردار
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما گزشتہ 34 سالوں میں پہلی بار آج براہ راست فون پر بات کریں گے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو خطے میں "سانس لینے کی جگہ" پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں اعلان کیا کہ ان کی درخواست پر لبنان اور اسرائیل کے رہنماؤں نے 10 روز کے لئے جنگ بندی کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کی منظوری
اسرائیلی میڈیا نے کل منگل کے روز اسرائیلی سکیورٹی کیبنٹ کی بلنان جنگ بندی کے موضوع پر میٹنگ کی اطلاع دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے اصولی طور پر جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیل پر حزب اللہ کے 24گھٹوں میں 39 حملے
میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اللہ نے لبنان کی حکومت اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان اسرائیل پر گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 39 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دریائے لیطانی کی جنوبی علاقوں سے حزب اللہ کا انخلا اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا انخلا
لبنان کی جنگ بندی کے معاہدے کی ممکنہ شرائط میں دو ماہ کی ابتدائی جنگ بندی، جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا انخلا اور دریائے لیطانی کے جنوب سے حزب اللہ کی مسلح موجودگی کا خاتمہ شامل ہے۔
لبنان کا مؤقف
لبنانی حکومت نے کسی بھی باقاعدہ مذاکرات سے پہلے مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ اگرچہ لبنان کے صدر جوزف عون کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ براہ راست کال کے حوالے سے کچھ متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں، لیکن بدھ کی شام اطلاعات کے مطابق سفارتی کوششیں عروج پر ہیں۔
زمین پر صورتحال
واشنگٹن میں مذاکرات کے باوجود گزشتہ چند گھنٹوں میں اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے ہیں، آج ہی دریائے لیطانی پر آخری پل کی تباہی کی بھی خبریں آئیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ان کارروائیوں کامقصد دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ یہ جنگ بندی اس وسیع تر علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے، جس میں پاکستان نے بھی بطور ثالث اہم کردار ادا کیا ہے۔
دریائے لیطانی
دریائے لیطانی لبنان میں جنوبی لبنان کا ایک انتہائی اہم اور سٹریٹیجگ اہمیت کا حامل دریا ہے۔ اس کا محل وقوع اور اہمیت درج ذیل ہے:
لیطانی کا محل وقوع (Location)
آغاز: یہ دریا مشرقی لبنان میں وادی بقاع (Beqaa Valley) کے زرخیز علاقے سے، بعلبک کے مغرب سے نکلتا ہے۔
بہاؤ: یہ شمال سے جنوب کی طرف وادی بقاع کے درمیان سے بہتا ہے اور پھر نبطیہ (Nabatiya) کے قریب اچانک مغرب کی طرف مڑ جاتا ہے۔
اختتام: یہ صور (Tyre) کے شمال میں بحیرہ روم میں جا گرتا ہے۔
لیطانی کی طوالت: اس کی کل لمبائی تقریباً 140 سے 170 کلومیٹر ہے، اور یہ مکمل طور پر لبنانی حدود کے اندر ہی بہتا ہے۔ Britannica +4

تزویراتی اہمیت
دریائے لیطانی لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا مرکز رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کے تحت اس دریا اور اسرائیل کے درمیان کے علاقے کو ایک بفر زون قرار دیا گیا ہے جہاں حزب اللہ کی مسلح موجودگی ممنوع ہے۔
آج طے پا رہی ممکنہ جنگ بندی کا بھی اہم نکتہ دریائے لیطانی کے جنوب سے حزب اللہ کی مسلھ موجودگی کا خاتمہ ہے۔