ایرانی سائنسدانوں کی قاتل غداری؟

تحریر محمد طیب زاہر

Jun 14, 2025 | 19:26:PM
ایرانی سائنسدانوں کی قاتل غداری؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کئی دہائیوں پر محیط ہے، لیکن حالیہ برسوں میں یہ کشیدگی نہ صرف بڑھ چکی ہے بلکہ عملی سطح پر ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو وجودی خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام خطے میں طاقت کا توازن اس کے خلاف کر دے گا، جبکہ ایران اسرائیل کو ایک قابض اور ظالم ریاست گردانتا ہے جو فلسطینی عوام پر ظلم و جبر روا رکھے ہوئے ہے۔ اسی تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان پراکسی جنگ، سائبر حملے، خفیہ آپریشن اور ہدفی قتل جیسے حربے معمول بن چکے ہیں۔

اپریل 2024 کے بعد حالات میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی، جب اسرائیل اور ایران کے درمیان شام، لبنان، اور یہاں تک کہ خلیج فارس میں براہ راست حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ اسرائیل نے شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی تنصیبات پر کئی حملے کیے، جبکہ ایران نے حماس اور حزب اللہ کے ذریعے اسرائیل کے اندر راکٹ حملوں کی سرپرستی جاری رکھی۔ ایران اور اسرائیل کی یہ کشمکش صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ اس کے عالمی اثرات بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔۔ دوسری طرف، ایران کو روس اور چین کی غیر علانیہ سفارتی اور بعض اوقات عسکری حمایت حاصل ہے، خاص طور پر روس یوکرین جنگ کے بعد دونوں کے تعلقات میں قربت آئی ہے۔ اگر یہ  جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو مشرق وسطیٰ کا یہ بحران دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر لا سکتا ہے۔ نیٹو، روس، چین اور خلیجی ممالک اس تناؤ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، اور تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہونے سے اقتصادی بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔اب دوسری جانب ایران کے سائنسدان جو ایران کو ایٹمی طاقت بنا ے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں وہ ایک ایک کرکے اسرائیل کے نشانے پر ہے۔اسرائیل کے ایران پر پہلے حملے کے نتیجے میں پہلے چار اور اب مزید تین سائنسدان ہلاک کردیے گئے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ اسرائیل چن چن کر ان سائنسدانوں کو کیسے ہلاک کر رہا ہے۔یقینی طور پر ایران میں سائنسدانوں کی ہلاکتیں اس کشیدگی کا ایک اور خطرناک پہلو ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ایران کے کم از کم سات ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی سے وابستہ سائنسدان پر اسرار طریقے سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سب سے معروف واقعہ نومبر 2020 میں محسن فخری زادہ کا قتل تھا، جو ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ تھے۔ ایران نے اس کا الزام اسرائیل کی خفیہ ایجنسی "موساد" پر عائد کیا۔ اسرائیل کی اسٹریٹجک پالیسی کے مطابق، وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہر قیمت پر روکنے کے لیے ہدفی قتل کو ایک مؤثر ہتھیار سمجھتا ہے۔ایرانی سائنسدانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کئی طریقہ استعمال کرتا ہے۔ موساد ایران کے اندر نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے، جن میں بعض ایرانی شہری بھی شامل ہیں جن کو غدار بھی کہا جاسکتا ہےجو مالی یا نظریاتی بنیادوں پر اسرائیل کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان ہلاکتوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا ہے، جیسے خودکار گن سسٹمز، ڈرونز، یا حتیٰ کہ ریموٹ کنٹرول دھماکہ خیز مواد۔ بعض واقعات میں سائنسدانوں کی کاروں کو راستے میں نشانہ بنایا گیا، تو بعض کو ان کے گھروں یا دفاتر کے قریب قتل کیا گیا۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو سست کرنا، ماہرین کی کمی پیدا کرنا اور سائنسی مورال کو کمزور کرنا ہے۔

یہ تمام حالات خطے اور دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ایران اپنے سائنسدانوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہا ہے، لیکن موساد کی چالاکی اور جدید جاسوسی حربوں کے آگے یہ اقدامات اکثر ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ اب بلاشبہ  دونوں ممالک کے درمیان یہ  جنگ  کھلی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
نتیجتاً، ایران اور اسرائیل کی موجودہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہے۔ جہاں ایک طرف براہ راست جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے، وہیں پراکسی وار، سائنسدانوں کی ہلاکتیں، اور عالمی طاقتوں کی مداخلت اس تناؤ کو بڑھا رہی ہے۔ اقوام متحدہ، او آئی سی، اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بحران کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی کوشش کریں، وگرنہ دنیا ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے جو تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: