ایران اسرائیل جنگ: آج مسلمان متحد نہ ہوئے تو کل سب کی باری آئیگی: خواجہ آصف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تمام مسلم ممالک متحد ہو کر اسرائیل کا مقابلہ کریں کیونکہ اگر آج مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آجائے گی۔
سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس وقت ایران اور اسرائیل میں جنگ جاری ہے، گزشتہ رات اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، ایران کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ملٹری قیادت کو شہید کیا گیا، اس ساری صورتحال میں اسرائیل اکیلا نہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران ہمارا ہمسائیہ ملک ہے جس کے ساتھ صدیوں سے تعلقات ہیں، ایران کے ساتھ تاریخی رشتہ ہے، آزمائش کی گھڑی میں ہر طریقے سے ایران کے ساتھ ہیں، ہم ایرانی مفادات کی حفاظت کریں گے، ایرانی ہمارے بھائی ہیں، ان کا دکھ درد، غم مشترک ہے، اسرائیل نے یمن، ایران اور فلسطین کو نشانہ بنایا ہوا ہے، عالم اسلام کا اتحاد ضروری ہے، اگر آج مسلم دنیا متحد نہ ہوئی اور ہم خاموش رہے تو سب کی باری آجائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:باجوڑسے افسوسناک خبرآگئی
ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے، تمام مسلم ممالک متحد ہوکر اسرائیل کا مقابلہ کریں، اسرائیل کے خلاف دنیا میں مضبوط آواز اٹھ رہی ہے، مغربی دنیا کی غیر مسلم عوام اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، غیر مسلموں کے ضمیر جاگ رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی مؤقف پر روز اول سے مضبوطی سے کھڑا ہے، اسرائیل کو تسلیم کیا نہ ہی تعلقات بنائے، پچھلے چند سالوں میں کچھ پاکستانی نژاد اسرائیل گئے لیکن کس طرح گئے، کس نے معاونت دی میں اس کی تفصیلات میں نہیں جاتا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کا اتحاد اس وقت نظر آنا چاہے، اسلامی دنیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع ہونے چاہئیں، اسرائیل کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اس ہاتھ کو جھٹک دینا چاہئے۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت نے ہم پر حملہ کیا جس کی اسے بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑی، بھارت کے اندر حکمران تذلیل کا شکار ہوئے، بھارت کا دنیا کے سامنے طلسم بھی مسمار ہوا، ہماری افواج کی مضبوطی اور عوام کے عزم نے یہ ممکن بنایا، ہم نے اپنے سے 5 گنا بڑے دشمن کو مٹی میں رول دیا۔
ملک میں مہنگائی کا اعتراف
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مہنگائی بالکل ہے لیکن بڑھنے کی شرح کہاں تھی اور اب کہاں ہے، سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 25 ہزار پوانٹس تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ کون لوگ تھے جنہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھے کہ پاکستان کو قرضہ نہ دیا جائے، ایک شخص کو ساری سیاست کا محور بنا دینا درست نہیں ہے۔