سوئٹزرلینڈ: تیز رفتاری پر امیر ترین شخص کو 1 لاکھ 10 ہزار ڈالر تک جرمانے کا سامنا

Aug 14, 2025 | 02:10:AM
سوئٹزرلینڈ: تیز رفتاری پر امیر ترین شخص کو 1 لاکھ 10 ہزار ڈالر تک جرمانے کا سامنا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  سوئس شہر لوزان میں ایک ارب پتی شخص کو مقررہ حد سے 27 کلومیٹر فی گھنٹہ زائد رفتار سے گاڑی چلانے پر 90,000 سوئس فرانک (تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار امریکی ڈالر) تک جرمانے کا سامنا ہے تاہم وہ ملک کے امیر ترین افراد میں شامل ہے، اس لیے وہ یہ جرمانہ باآسانی ادا کر سکتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں ٹریفک جرمانے صرف خلاف ورزی کی نوعیت پر نہیں  بلکہ آمدنی، دولت، طرزِ زندگی اور خاندانی مالی حالات کو بھی مدنظر رکھ کر عائد کیے جاتے ہیں۔

یہ شخص  جو کہ ایک فرانسیسی شہری ہے اور ملک کے 300 امیر ترین افراد میں شامل ہے، اس سے قبل بھی 8سال قبل ایسی ہی خلاف ورزی پر جرمانہ ادا کر چکا ہے۔

تازہ ترین کیس میں  لوزان کی ایک سڑک پر اس کی گاڑی کی رفتار 77 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی  جبکہ وہاں کی رفتار کی حد 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

 عدالت نے فوری طور پر 10,000 فرانک (تقریباً 12,300 ڈالر) مقدمہ کی مد میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے  اور اگر آئندہ3 سال میں دوبارہ ایسی خلاف ورزی ہوئی  تو مزید 80,000 فرانک تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

یورپ کے کئی ممالک جیسے جرمنی، فرانس، آسٹریا اور سکینڈینیوین ریاستوں میں بھی جرمانے مالی حیثیت کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2010 میں ایک فراری چلانے والے کروڑ پتی کو سوئٹزرلینڈ ہی میں تقریباً 2 لاکھ 90 ہزار ڈالر کا جرمانہ بھی کیا جا چکا ہے، جو اب تک کا ایک ریکارڈ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راجر فیڈرر 2017 کے بعد شنگھائی ماسٹرز سے ٹینس میں واپسی کریں گے