توانائی کی عالمی جنگ؟ خلیجِ فارس کے ذخائر پر سب کی نظریں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )لاکھوں برسوں پر محیط خلیجِ فارس کے ممالک ارضیاتی عمل نے اس خطے کو عالمی توانائی کا مرکز بنا دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ جیسے کسی بھی بڑے تنازعے کے آغاز پر دنیا بھر میں توانائی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیجِ فارس کے اردگرد 30 سے زائد ایسے تیل سے مالا مال علاقے موجود ہیں جنھیں ’سپر جائنٹ‘ کہا جاتا ہے اور ہر ایک میں کم از کم پانچ ارب بیرل خام تیل پایا جاتا ہے۔
خطے کے کنویں روزانہ اتنا تیل پیدا کرتے ہیں، جو شمالی سمندر یا روس کے بہترین کنوؤں کی پیداوار سے دو سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
دنیا کے روایتی تیل کے تقریباً نصف ذخائر اور گیس کے 40 فیصد ذخائر زمین کی صرف تین فیصد سطح کے نیچے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے معاہدہ ، ٹرمپ بھی پاکستان آرہے ہیں؟
امریکی جیولوجیکل سروے کی جائزہ رپورٹس کے مطابق ایک صدی سے زیادہ عرصے تک کھدائی اور پیداوار کے باوجود، خلیجِ فارس کے خطے میں اب بھی تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہونے باقی ہیں۔
امریکہ میں ترقی پانے والی افقی ڈرلنگ اور فریکچرنگ جیسی تکنیکوں کے ذریعے بھی زیادہ تیل اور گیس پیدا کی جا سکتی ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے تیل کے میدانوں میں ان طریقوں کو آزما رہے ہیں۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ طریقے کتنے کامیاب ہوں گے، لیکن مطالعات سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کے ذریعے پیداوار میں مزید اضافہ ممکن ہے۔