چیف جسٹس دو اداروں کے بڑے افسران کو ذاتی طور پر طلب کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے پر برہم

Nov 13, 2025 | 23:02:PM
چیف جسٹس دو اداروں کے بڑے افسران کو ذاتی طور پر طلب کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے پر برہم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عیسیٰ ترین)بلوچستان ہائی کورٹ کا پی آئی اے  کےسی ای او اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام کو شوکاز نوٹس،عدالت کا دونوں افسران کو ذاتی طور پر طلب کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی۔چیف جسٹس روزی خان  نے ریمارکس دیئے کہ عوام کی مشکلات کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ۔

تفصیلا ت کے مطابق  بلوچستان ہائی کورٹ میں پروازوں کی کمی اور فضائی ٹکٹس مہنگے  ہونے کے خلاف چیمبر آف کامرس کے نائب صدر اختر کاکڑ کی درخواست پر سماعت  ہوئی، چیف جسٹس روزی خان اور جسٹس سردار احمد حلیمی نے درخواست  پر سماعت کی ، افسران کی عدم حاضری پر  چیف جسٹس کے اظہار برہمی پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور پی آئی اے کے وکیل کی عدالت سے معذرت کی اور اگلی سماعت پر حاضری کی یقین دہانی کراوئی۔

درخواست گزار ن  اختر کاکڑ نے رٹ پیٹشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں پانچ ایئرلائنز کام کر رہی ہیں مگر صرف دو کوئٹہ کے لیے پروازیں چلاتی ہیں،اندرون بلوچستان گوادر، تربت، ژوب کے لیے بھی کوئی فضائی سروس دستیاب نہیں،  ایئر لائنز نے گٹھ جوڑ سے کرایے بڑھائے،پروازوں کی کمی سے ٹکٹس کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئی ہیں،عام شہری تو دور تاجروں کے لیے خریدنا مشکل ہوگیا،  اسلام آباد، کراچی، لاہور کے لیے روزانہ دس پروازیں، کوئٹہ کے لیے بمشکل ایک ہے، ایئرلائنز کا طرزِعمل آئین کے آرٹیکل 8، 9، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے ،درخواست نے عدالت سے استدعا کی ہےکہ تمام ایئرلائنز کو بلوچستان سے باقی صوبوں اور اندرون صوبہ پروازوں کا پابند کیا جائے۔

رخواست گزار کے وکیل ڈاکٹر پرویز خان نے عدالت کو بتایا کہ امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے  بس اور ٹرین سروس بند ہے ،علاج ، تعلیم، کاروبار یا   روزگار کے لیے  لوگ فضائی سفر پر مجبور ہیں۔ عدالت نے مسابقتی کمیشن سے پروازوں اور کرایوں پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چوری یا سردیوں کا سٹاک ،چور دوکان سے 1کلو کاجو،2 کلو بادام ،3 کلو اخروٹ و دیگر اشیا لے گئے