زمین، ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا نیا سفر!
تحریر ؛ سجاد اظہر پیرزادہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
زمین صرف رقبوں، کھاتوں اور رجسٹریوں کا نام نہیں، یہ ایک کسان کی محنت، ایک خاندان کی وراثت، ایک سرمایہ کار کے اعتماد اور ریاست کے معاشی نظم کا بنیادی حصہ ہے، اسی لیے کسی بھی معاشرے میں زمین کا نظام جتنا شفاف، آسان اور جدید ہوگا، ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ اتنا ہی مضبوط ہوگا۔
پنجاب جیسے بڑے صوبے میں، جہاں آبادی، معیشت اور زمین سے وابستہ معاملات کا حجم بہت وسیع ہے، بورڈ آف ریونیو کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ زمین کے روایتی نظام کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا، ریکارڈ کی پیچیدگیاں، طویل کارروائی، ملکیت کے تنازعات، سرکاری اراضی کے تحفظ کے مسائل اور شہریوں کی شکایات ایسے معاملات رہے جنہوں نے لینڈ گورننس کو ایک مسلسل توجہ طلب شعبہ بنا دیا۔
اب ضرورت اس امر کی تھی کہ زمین کے نظام کو صرف روایتی طریقہ کار کے بجائے جدید ٹیکنالوجی، شفافیت اور بہتر انتظامی حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھایا جائے، پنجاب میں بورڈ آف ریونیو کے تحت جاری اصلاحاتی اقدامات اسی ضرورت کا اظہار ہیں، جہاں لینڈ ریکارڈ کی بہتری، ڈیجیٹلائزیشن، سرکاری اراضی کے بہتر انتظام اور شہری سہولتوں میں اضافے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
بورڈ آف ریونیو کے دورے کے دوران ایک پہلو خاص طور پر نمایاں محسوس ہوا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ عوامی رسائی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے دفتر میں شہریوں کی موجودگی اور مسائل سننے کا عمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سرکاری اداروں میں جواب دہی اور عوامی رابطے کی روایت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، نبیل جاوید کا عوامی خدمت کا شاندار ایماندارانہ اور بے داغ کیریئر جونیئرز کیلئے ایک سبق ہے کہ وہ سیکھیں کہ کسی بھی ادارے کے لیے یہ کتنا اہم مقام ہوتا ہے کہ جب شہری اسے صرف ایک دفتری نظام نہیں بلکہ اپنے مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھنے لگیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی حکومت نے گورننس کے شعبوں میں اصلاحات کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا، جن میں زمین سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، لینڈ ریکارڈ کی بہتری، ڈیجیٹل نظام کا فروغ اور سرکاری اثاثوں کے بہتر انتظام کا مقصد یہی ہے کہ شہریوں کو زیادہ آسان سہولیات ملیں اور ریاستی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو۔
بورڈ آف ریونیو پنجاب میں جاری اقدامات میں زمین کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنا، ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو وسعت دینا، نجی و سرکاری اراضی کی نشاندہی اور بہتر مینجمنٹ، کمرشل لیزنگ کے طریقہ کار کو منظم کرنا اور ریونیو میں اضافے کے امکانات تلاش کرنا شامل ہیں،ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری PLUS پروگرام بھی اسی وسیع تر مقصد کا حصہ ہے، جس کے ذریعے لینڈ سسٹم کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان اصلاحات کی کامیابی کے لیے انتظامی قیادت کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید کی ذمہ داری ایسے وقت میں اہم ہے جب ادارے کو روایتی انداز سے جدید لینڈ گورننس کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ رابطہ کاری، اہداف کا تعین اور کارکردگی کی نگرانی اس عمل کا اہم حصہ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ عام شہری کو اس تبدیلی سے کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ کسی بھی ادارے کی کامیابی کا اصل پیمانہ اجلاسوں اور پالیسیوں سے آگے ہوتا ہے، اگر ایک کسان کو اپنی زمین کا ریکارڈ آسانی سے ملتا ہے، وراثتی معاملات میں مشکلات کم ہوتی ہیں، ملک و بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی جائیداد کے تحفظ کے حوالے سے زیادہ مطمئن ہوتے ہیں، اور سرکاری زمین کا استعمال شفاف انداز میں قومی مفاد کے لیے ہوتا ہے تو یہی اصلاحات کی اصل کامیابی ہوگی۔
سرکاری اراضی کا تحفظ بھی موجودہ دور کا ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے، ریاستی زمین دراصل عوامی ملکیت ہوتی ہے، اس لیے اس کا درست ریکارڈ، مؤثر نگرانی اور شفاف استعمال ضروری ہے، بہتر لینڈ مینجمنٹ نہ صرف سرکاری اثاثوں کو محفوظ بنا سکتی ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔
پنجاب میں زمینوں سے متعلق معاملات کا حجم بہت بڑا ہے، یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ بڑے نظام چند فیصلوں سے مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوتے، اس لیے ڈیجیٹلائزیشن، ریکارڈ کی درستگی، عوامی سہولتوں کی یکساں فراہمی اور شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے مسلسل محنت درکار ہوگی۔
اچھی حکمرانی کا مطلب یہی ہے کہ ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ کم ہو، سرکاری دفتر وہ جگہ بنے جہاں آنے والا شخص خود کو بے بس نہیں بلکہ نظام کا حصہ محسوس کرے، بورڈ آف ریونیو کے سامنے بھی یہی اصل امتحان ہے کہ اصلاحات کا فائدہ فائلوں سے نکل کر عام آدمی کی زندگی تک کیسے پہنچتا ہے۔
پنجاب کا لینڈ گورننس نظام ایک تبدیلی کے مرحلے میں ہے، اگر شفافیت، ٹیکنالوجی اور عوامی خدمت کے اصول مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو بورڈ آف ریونیو نہ صرف اپنے روایتی کردار کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ جدید انتظامی اصلاحات کی ایک قابلِ ذکر مثال بھی بن سکتا ہے، کیونکہ آخرکار ریاست کی مضبوطی اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب اس کے فیصلے شہری کے لیے آسانی، تحفظ اور اعتماد کا باعث بنیں۔
سجاد پیرزادہ سینئر صحافی، محقق اور لاہور پریس کلب فارن افیئرز کمیٹی کے سابق ممبر ہیں۔