وائس چانسلرہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر شہزاد علی جنسی ہراسگی کا مرتکب قرار، برطرف کرنے کا حکم

Feb 13, 2026 | 19:55:PM
وائس چانسلرہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر شہزاد علی جنسی ہراسگی کا مرتکب قرار، برطرف کرنے کا حکم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)وفاقی محتسب برائے تحفظ خواتین و انسداد ہراسانی نے وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی ڈاکٹر شہزاد علی خان کو جنسی ہراسگی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ ان کی جانب سے دائر شکایت مسترد کر دی گئی۔ 

24  نیوز کو موصول ہونے والے وفاقی محتسب کی جانب سے جاری 17 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے کے مطابق ڈاکٹر شہزاد علی خان اور ریسرچ اسسٹنٹ ڈاکٹر عائشہ خان کے درمیان باہمی طور پر ہراسگی کی الگ الگ شکایات دائر کی گئی تھیں جنہیں یکجا کر کے مشترکہ انکوائری کی گئی۔

 فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال اور “کوئیڈ پرو کو” نوعیت کی ہراسانی ثابت ہو چکی ہے، اس لیے متعلقہ اتھارٹی فوری طور پر برطرفی کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائے، فیصلے کے متن کے مطابق وائس چانسلر نے ایک طالبہ کو غیر قانونی پیشہ ورانہ مراعات فراہم کیں جن میں غیر معمولی تقرریاں اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔

وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد، بالخصوص موبائل پیغامات اور انتظامی فیصلوں کا ریکارڈ، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختیارات کا استعمال ذاتی مفاد کے لیے کیا گیا، محتسب نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں جہاں استاد اور طالبہ کے درمیان اختیار اور اثر و رسوخ کا واضح عدم توازن موجود ہو، وہاں مبینہ رضامندی کو قانونی جواز کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں یہ اہم قانونی مشاہدہ بھی شامل کیا گیا کہ طاقت کے غیر مساوی تعلق میں رضامندی اپنی آزادانہ حیثیت کھو دیتی ہے، لہٰذا اسے دفاع کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، وفاقی محتسب نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پیشہ ورانہ حدود کا خیال رکھیں اور اپنے منصب کو کسی ذاتی تعلق یا فائدے کے لیے استعمال نہ کریں،وائس چانسلر کی جانب سے دائر اپیل کو بھی مسترد کر دیا گیا۔

دوسری جانب متاثرہ طالبہ پر لگائے گئے مالی بدعنوانی کے الزامات شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر خارج کر دیے گئے، فیصلے میں زور دیا گیا کہ کسی بھی سرکاری عہدے دار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا اور ہراسانی کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا، قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے اور مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

یہ پڑھیں :  کوہاٹ بڑی تباہی سے بچ گیا