وفاقی حکومت کا بڑا اقدام: خواتین کے تحفظ کیلئے "وویمن پروٹیکشن ونگ" قائم کرنے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
( عرفان ملک) حکومت نےخواتین کو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور فیک ویڈیوز سے تحفظ دینے کیلئے "وویمن پروٹیکشن ونگ" قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
خصوصی ونگ آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور AI پر مبنی ڈیپ فیک مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرے گا، اس یونٹ کو پنجاب پولیس اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی تربیت یافتہ خواتین افسران آپریٹ کریں گی۔
حکام کے مطابق سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے خواتین کی تصاویر چوری کرکے ان میں ردوبدل، جعلی ویڈیوز بنانے اور انہیں بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی،ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جدید سائبر ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل فرانزک سسٹمز کی مدد سے ٹریس کر کے گرفتار کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت نے مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور مثبت استعمال کے لیے سنگاپور کی ایک معروف ٹیکنالوجی کمپنی سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ جدید سسٹمز میں بہتری لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:نوشہرہ: راستے کے تنازع پر فائرنگ، 7 افراد جاں بحق
نیا ونگ نہ صرف شکایات پر فوری ایکشن لے گا بلکہ متاثرہ خواتین کو قانونی، تکنیکی اور نفسیاتی معاونت بھی فراہم کرے گا، اس مقصد کے لیے خصوصی ہیلپ لائن اور آن لائن کمپلینٹ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ہزاروں خواتین سوشل میڈیا پر ہراسانی، فراڈ اور بلیک میلنگ کا شکار ہو چکی ہیں، جس کے بعد اس اقدام کو ڈیجیٹل تحفظ کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل ماحول کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔