غزہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات ناکامی کے قریب

Jul 12, 2025 | 17:30:PM
غزہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات ناکامی کے قریب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان نئی جنگ بنددی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی سے متعلق ہونے والے مذاکرات کی کامیابی تقریباً ناممکن دکھائی دے رہی ہے۔
ایک سینیئر فلسطینی اہلکار نےبتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دورہ امریکہ کے لیے وقت لیا اور یوں جان بوجھ کر اس سلسلے کو روک دیا اور دوحہ میں جو اسرائیلی وفد بھیجا گیا ہے اس کے پاس متنازع امور پر فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔
ان نکات میں غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی اور انسانی امداد تقسیم کرنے جیسے امور شامل ہیں، جمعرات کو امریکہ سے واپسی پر نتن یاہو نے مثبت لہجے میں بات کی اور کہا تھا کہ وہ ’چند دنوں میں‘ معاہدے کی امید رکھتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مجوزہ ڈیل کے تحت حماس 20 زندہ یرغمالیوں میں سے نصف کو رہا کردے گا اور 60 دنوں تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے دوران 30 مردہ یرغمالیوں میں سے نصف سے زائد کی لاشیں واپس کرے گا۔
گزشتہ اتوار سے اسرائیل اور حماس کے وفود نے دوحہ میں الگ الگ مقامات پر بالواسطہ مذاکرات کے آٹھ ادوار میں شرکت کی، انھیں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی اور مصری انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام نے معاونت فراہم کی اور امریکی ایلچی بریٹ میک گرک بھی ان مذاکرات کا حصہ بنے۔

ان مذاکرات کے ثالثوں نے حماس کے وفد اور اسرائیلی وفد کے درمیان درجنوں زبانی اور تحریری پیغامات بھیجے ہیں، جن میں فوجی، سکیورٹی اور سیاسی حکام شامل ہیں, ان حکام نے بتایا کہ ان مذاکرات میں دو مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی تھی: غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کا طریقہ کار اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی حد یعنی کتنی تعداد میں انخلا ہوگا، حماس کا اصرار ہے کہ انسانی امداد غزہ میں داخل ہونی چاہیے اور اقوام متحدہ کی ایجنسیز اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ذریعے تقسیم کی جانی چاہیے۔

اسرائیل متنازع اسرائیلی اور امریکی حمایت یافتہ میکنزم،غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعے امداد کی تقسیم پر زور دے رہا ہے، اس عمل میں شامل ثالثوں کے مطابق اس مسئلے پر تقسیم کو ختم کرنے کے لیے کچھ محدود پیش رفت ہوئی ہے تاہم کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فرخ کھوکھر کا جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت کا فیصلہ