بے بس ماں کی کم سن بچے کے علاج کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب سے مدد کی اپیل
تحریر؛ مناظر علی
Stay tuned with 24 News HD Android App
سٹی نیوز نیٹ ورک کے ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافی مناظرعلی کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے لاہور کے علاقے اسلامیہ پارک کی رہائشی خاتون مریم راشد نے کہا ہے کہ اس کا کم سن بچہ پیدائش کے وقت سے ہی پیچیدگیوں میں مبتلا ہے،خاتون نے الزام لگایاکہ ایک نجی ہسپتال میں ڈیلیوری ہوئی اور بچے کو نرسری وارڈ سےکا کروچ اور کھٹمل نے کاٹ لیا جس کے بعد اس کے پیٹ پر نشان بن گیا جو ابھی تک ختم نہیں ہوا۔
خاتون کے مطابق ڈاکٹرز کا کہناہے کہ یہ نشان آپریشن کرکے ختم کرنا پڑے گا،انہوں نے بتایا کہ تیز روشنی ڈائریکٹ کمسن کے چہرے پر پڑتی رہی جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں متاثر ہوئیں اور اب ایک آنکھ بھی مسلسل بندہورہی ہے،ہسپتال کے اندر ہی بچے کے سر کی پچھلی طرف چوٹ بھی لگی۔ خاتون نے یہ بھی الزام لگایاکہ ہسپتال میں غلط ٹریٹمنٹ اور ہیوی انجکشنز کی وجہ سے بچہ انفیکیشن زدہ ہوگیاہے اور اس کے سر میں پانی پڑنے سے سر کا سائز دن بدن بڑھ رہا ہے۔
مریم راشد کاکہناہے کہ انہیں کچھ ڈاکٹرز نے بتایاہے کہ اس کا بہتر علاج امریکہ میں ہوگا جس پر ایک لاکھ سے زائد امریکی ڈالر خرچ آسکتا ہے،انہوں نے بتایا کہ لاہور کے مختلف ہسپتال میں اب تک وہ بچے کے علاج پر 35لاکھ روپے خرچ کرچکی ہیں مزید علاج پر خرچ کرنے کیلئے ان کے پاس رقم نہیں،پنجاب حکومت یا مخیرحضرات ان کی مدد کریں تاکہ بچے کا علاج معالجہ ہوسکے۔
دوران انٹرویو بچے کی ماں مریم راشد زارو قطار روتی رہیں جبکہ اس جذباتی صورتحال میں رپورٹر بھی آبدیدہ ہوگیا ۔