لاہور ہائیکورٹ کاتحویل سے متعلق اہم فیصلہ، تینوں بچے ماں کے حوالے کرنے کا حکم

Sep 12, 2026 | 10:08:AM
لاہور ہائیکورٹ کاتحویل سے متعلق اہم فیصلہ، تینوں بچے ماں کے حوالے کرنے کا حکم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی تحویل کے کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے تینوں بچوں کو فوری طور پر ماں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ہے، جسٹس غلام سرور نہنگ نے بچوں کی والدہ نسیم بی بی کی درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں 16 سالہ آمنہ، 11 سالہ ایمان اور 9 سالہ علی حسین کو ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا، عدالت نے قرار دیا کہ بچوں کے شیر خوار نہ ہونے کی بنیاد پر ماں کی درخواست خارج نہیں کی جاسکتی، جبکہ باپ کے پاس بچے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ زبردستی کی تحویل قانونی ہوجائے،عدالت نے قرار دیا کہ بچوں کا نگران مقرر کرنے کیلئے صرف عمر کو بنیاد نہیں بنایا جاسکتا، بچے کوئی ملکیتی سامان نہیں کہ جن پر زبردستی قبضہ کیا جائے۔ بچوں کی فلاح اور بہترین مفاد عدالت کیلئے سب سے مقدم ہے۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

ہائیکورٹ کے مطابق سیشن کورٹ نے فیصلے میں قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھا، سیکشن 491 کے تحت ماں کو بچوں کی فوری تحویل حاصل کرنے کا پورا حق ہے اور گارڈین کورٹ میں کیس زیرالتوا ہونے سے فوری ریلیف کا حق ختم نہیں ہوتا،عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوا بچوں کو ماں کی تحویل سے زبردستی الگ کیا گیا تھا، ماں کو تحویل دینے کا حکم عارضی اور فوری نوعیت کا ہے، جبکہ مستقل تحویل کا حتمی فیصلہ گارڈین کورٹ کرے گی، جو فیصلہ کرتے وقت بچوں کی مرضی اور فلاح کو مدنظر رکھے گی۔

عدالت عالیہ نے کیس کا مکمل اور باضابطہ تحریری حکم نامہ جاری کیا، والدہ کے مطابق والد نے 20 جولائی 2026 کو تینوں بچوں کو زبردستی چھین لیا تھا، ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کا 27 جولائی کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیاگیا ہے۔