شاہد آفریدی نے اپنی بیٹیوں کو کب موبائل فون دیا ؟ بوم بوم کا حیرت انگیز انکشاف

May 11, 2026 | 12:53:PM
شاہد آفریدی نے اپنی بیٹیوں کو کب موبائل فون دیا ؟ بوم بوم کا حیرت انگیز انکشاف
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ دینی اور دنیاوی تعلیم دونوں نہایت ضروری ہیں، تاہم بچوں کی اصل اور مؤثر تربیت کی سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔

ان کے مطابق اگر تربیت درست نہ ہو تو دین اور دنیا کی تعلیم کا مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔

ایک نجی سکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ والدین عموماً بہت کم عمری میں، یعنی ڈھائی سے تین سال کے بچوں کو سکولوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو ان کے مطابق ایک بڑی غلطی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہیں تاہم اب ان کا ماننا ہے کہ بچوں کی 5 سال کی عمر تک بنیادی تربیت گھر میں ہونا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے ماں باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں ہو سکتا۔

مزید پڑھیں: 5 سالہ ننھےسنوکر پلیئر کے دنیا بھر میں چرچے 

 انہوں نے مزید کہا کہ انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن اگر بچے کی تربیت اچھی ہو تو وہ ہمیشہ صحیح راستے کی طرف لوٹ آتا ہے، اس لیے والدین کو تعلیم سے زیادہ تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔

 شاہد آفریدی نے آج کے دور میں والدین کی جانب سے بچوں کو خاموش کرانے کے لیے موبائل فون دینے کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی اولاد کو اس عادت سے دور رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو نکاح کے بعد موبائل فون دیا۔