سپریم جوڈیشل کونسل نے ججوں کے خلاف 50 درخواستیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں، تین درخواستوں پر کارروائی کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری) سپریم جوڈیشل کونسل نے آج اہم اجلاس میں ججوں کے خلاف آئی ہوئی درخواستوں کا جائزہ کیا۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف کااروائی کے اس مجاز فورم نے ججوں کے خلاف آنے والی 50 درخواستیں خارج کر دیں، تین درخواستوں پر کارروائی کرنے کی منظوری دے دی اور چھ درخواستوں پر کوئی کارروائی مؤخر کر دی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ختم ہو گیا۔ اجلاس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں ججز کے خلاف 59 شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 50 شکایات خارج کر دی گئیں، جبکہ 6 شکایات پر فیصلہ موخر کر دیا گیا اور 3 شکایات پر مزید کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خطرناک ترین گرین شرٹ عثمان طارق کے آج میچ میں اوورز کا جائزہ، مخالفوں کی نیندیں حرام
اجلاس کے دوران 8 شکایات کے جائزے کے وقت غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے اجلاس میں ایجنڈا پر موجود رولز میں ترامیم کی منظوری کا فیصلہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کی بھائی چارے کے عالمی دن پر ابوظہبی میں اہم پینل ڈسکشن میں خیال افروز گفتگو