معروف پروگرام نورِ سحر میں ''اُمید۔۔۔مایوسی کا تریاق''بصیرت افروز نشست
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے سیرتِ رسول ﷺ سے مثال دیتے ہوئےکہا کہ نبی کریم ﷺ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی کبھی مایوسی کو قریب نہ آنے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف پروگرام"نورِ سحر"میں ایک بصیرت افروز نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان "اُمید۔۔۔مایوسی کا تریاق" تھا ۔
نشست کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ امید کا تصور اسلام کی روح ہے۔
انہوں نے سیرتِ رسول ﷺ سے مثال دیتے ہوئےکہا کہ نبی کریم ﷺ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی کبھی مایوسی کو قریب نہ آنے دیا۔
انہوں نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ان سے پاکستان کے قیام کے امکان پر سوال ہوا تو انہوں نے کامل یقین سے کہا کہ "مرضی مولا ہے اور مرضی مولا ہو کر رہتی ہے، اور یہی ایمان کامیابی کا ذریعہ بنا۔
پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد سعیدی نے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کا قول بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی امید اُس وقت دم توڑتی ہے جب وہ تقدیر سے زیادہ چاہنے اور وقت سے پہلے پانے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کا کام صرف کوشش کرنا ہے، نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا چاہیے، تب ہی راستے کھلتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ایک پیغمبرانہ صفت ہے، جیسا کہ حضرت ایوب علیہ السلام اور حضرت یونس علیہ السلام کی زندگیوں سے واضح ہوتا ہے۔
انہوں نے طلبہ کو پیغام دیا کہ مایوسی کے بجائے اللہ پر توکل رکھیں اور مسلسل جدوجہد جاری رکھیں۔
مسٹر بدرالحسن نے میٹا فزکس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جہاں عقل اور فزکس کی حد ختم ہوتی ہے، وہیں سے میٹا فزکس کا آغاز ہوتا ہے۔
انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کو میٹا فزکس کی بہترین مثال قرار دیا۔
انہوں نے مایوسی کے خاتمے کے لیے ذکر، ورزش اور انفاق فی سبیل اللہ کو کلیدی عوامل قرار دیا۔
ڈاکٹر عثمان رشید چوہدری نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ امیدجیسا قیمتی تصور ہماری سوچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے امید کے تین بنیادی عناصر خواہش، یقین اور تحریک پر روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط قوم وہی بنتی ہے جو ان اوصاف کو اپنی اجتماعی سوچ کا حصہ بنائے۔
علامہ نبی گل قادری نے کہا کہ مایوسی دل کو اندھیروں میں دھکیلتی ہے جبکہ امید چراغ کی مانند روشنی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب انسان حالات کو صرف اپنی نظر سے دیکھے تو مایوسی پیدا ہوتی ہے، لیکن اگر وہ انہیں اللہ کی نظر سے دیکھے تو امید پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے غزوہ اُحد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے سخت ترین حالات میں بھی صبر اور امید کا دامن نہیں چھوڑا، جو ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نئی نسل جعلی پیروں اور غیر مستند رہنماؤں کے پیچھے چل پڑی ہے، جو انہیں دین سے دور اور گمراہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔