چیف جسٹس عالیہ نیلم .. دو سالہ قیادت، عدالتی اصلاحات اور انصاف کی نئی سمت
تحریر؛ ملک اشرف
Stay tuned with 24 News HD Android App
11 جولائی 2026 کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کے بطور چیف جسٹس دو سال مکمل ہو رہے ہیں۔ کسی بھی چیف جسٹس کی کارکردگی کا اصل معیار صرف یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کتنے فیصلے لکھے، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ اس نے ادارے کو کس حد تک منظم، مضبوط، شفاف اور عوام دوست بنایا۔ انصاف کی بروقت فراہمی، عدالتی نظم و نسق، ماتحت عدلیہ کی نگرانی، وکلاء اور سائلین کے اعتماد میں اضافہ اور ادارے کی ساکھ کو مضبوط کرنا ایک چیف جسٹس کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے تو چیف جسٹس عالیہ نیلم کا دو سالہ دور لاہور ہائی کورٹ کی حالیہ تاریخ میں ایک اہم باب کی حیثیت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
جسٹس مس عالیہ نیلم نے 11 جولائی 2024 کو لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس کے طور پر منصب سنبھالا۔ یہ تقرری صرف ایک شخصی کامیابی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل بھی تھی۔ پہلی مرتبہ لاہور ہائی کورٹ جیسے بڑے آئینی ادارے کی سربراہی ایک خاتون جج کے سپرد ہوئی، جس نے یہ پیغام دیا کہ عدلیہ میں ترقی کا معیار صنف نہیں بلکہ قابلیت، دیانت، تجربہ اور پیشہ ورانہ اہلیت ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے منصب سنبھالتے ہی واضح کر دیا کہ ان کی اولین ترجیح ادارہ جاتی بہتری اور انصاف کی مؤثر فراہمی ہوگی۔ گزشتہ دو برسوں میں لاہور ہائی کورٹ کے انتظامی ڈھانچے میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ ججز کی انتظامی ذمہ داریوں کی ازسرنو تقسیم، مختلف کمیٹیوں کی تشکیل، ضلعی عدلیہ کے لیے انسپکشن ججز کی تقرری، پنجاب کی جامعات میں ہائی کورٹ کے ججز کی نمائندگی، عدالتی نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنانا اور انتظامی معاملات میں شفافیت لانے جیسے اقدامات اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایک مضبوط عدالتی نظام صرف فیصلوں سے نہیں بلکہ مؤثر انتظامی ڈھانچے سے بھی تشکیل پاتا ہے۔
ان کے دور کا ایک نمایاں پہلو حبسِ بے جا اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں عدالت کی مسلسل دلچسپی رہا۔ خصوصاً خواتین اور بچیوں کی بازیابی سے متعلق مقدمات میں چیف جسٹس نے ذاتی نگرانی کا انداز اپنایا۔ پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے افسران کو بارہا طلب کیا گیا، پیش رفت رپورٹس طلب کی گئیں اور واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ عدالت کی اس مستقل نگرانی کے نتیجے میں ہزاروں خواتین اور بچیاں بازیاب ہوئیں، جس سے متعدد خاندانوں کو برسوں بعد اپنے پیاروں سے ملنے کی خوشی نصیب ہوئی۔ ایسے مقدمات نے عوام میں عدلیہ پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ انہوں نے وسیع انتظامی ذمہ داریوں کے باوجود عدالتی امور کو متاثر نہیں ہونے دیا۔ وہ ایک طرف پورے پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے انتظامی معاملات کی نگرانی کرتی رہیں جبکہ دوسری جانب روزانہ کی بنیاد پر آئینی، سول، فوجداری، سروس، ٹیکس، انتخابی اور عوامی مفاد کے اہم مقدمات کی سماعت بھی جاری رکھی۔ ان کی عدالت میں مقدمات کی بروقت سماعت اور غیر ضروری التوا سے گریز کو وکلاء نے بھی سراہا۔
ماتحت عدلیہ کی بہتری ان کے دور کی اہم ترجیحات میں شامل رہی۔ ضلعی عدالتوں کے معائنہ جاتی نظام کو مؤثر بنانے، عدالتی نظم و ضبط بہتر کرنے، سائلین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور مقدمات کے بروقت فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے متعدد انتظامی اقدامات کیے گئے۔ یہ اصلاحات مستقبل میں عدالتی نظام کی مضبوطی کی بنیاد بن سکتی ہیں کیونکہ انصاف صرف اعلیٰ عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ عام شہری کو ضلعی عدالت میں بروقت انصاف ملنا ہی عدالتی نظام کی اصل کامیابی ہے۔
عدالت کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھنے، عدالتی اوقات کار کی پابندی اور مقدمات کی منظم سماعت بھی ان کے دور کی نمایاں خصوصیات رہیں۔ وکلاء کی ایک بڑی تعداد اس بات کی معترف ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے قانون کی بالادستی کو ہر معاملے میں مقدم رکھا اور عدالتی وقار کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔
ان کی قیادت میں لاہور ہائی کورٹ نے کئی ایسے اہم آئینی اور عوامی مفاد کے مقدمات کی سماعت کی جن کے اثرات براہِ راست عام شہریوں تک پہنچے۔ شہری آزادیوں، بنیادی حقوق، انتظامی شفافیت اور قانون کی حکمرانی سے متعلق متعدد مقدمات میں عدالت نے ریاستی اداروں کو آئین اور قانون کے مطابق ذمہ داریاں ادا کرنے کی یاد دہانی کرائی۔ اس طرزِ عمل نے یہ واضح کیا کہ عدالت صرف تنازعات کے حل کا فورم نہیں بلکہ آئین کی محافظ بھی ہے۔
بطور پہلی خاتون چیف جسٹس، جسٹس عالیہ نیلم کی کامیابی نے پاکستان کی خواتین وکلاء اور ججز کے لیے ایک نئی راہ بھی ہموار کی ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ محنت، مستقل مزاجی، دیانت اور قانونی مہارت انسان کو اعلیٰ ترین آئینی مناصب تک پہنچا سکتی ہے۔ ان کی شخصیت نوجوان وکلاء، خصوصاً خواتین کے لیے حوصلہ افزا مثال بن چکی ہے۔
کسی بھی چیف جسٹس کے دور کا مکمل اور حتمی فیصلہ وقت اور تاریخ کرتی ہے، لیکن دو سال کے اس سفر کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ادارہ جاتی اصلاحات، عدالتی نظم و نسق، ماتحت عدلیہ کی نگرانی اور انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے قابلِ ذکر کردار ادا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں لاہور ہائی کورٹ نے انتظامی استحکام، پیشہ ورانہ نظم اور عوامی اعتماد کے حوالے سے اہم پیش رفت کی ہے۔
اگر آئندہ بھی یہی ادارہ جاتی سوچ، اصلاحات کا تسلسل اور قانون کی بالادستی کا یہی معیار برقرار رہا تو چیف جسٹس عالیہ نیلم کا دور لاہور ہائی کورٹ کی تاریخ میں ایک ایسے عہد کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں صرف مقدمات کے فیصلے ہی نہیں ہوئے بلکہ ادارے کو مزید منظم، مضبوط، جدید اور عوام دوست بنانے کی عملی کوشش بھی کی گئی۔ یہی کسی بھی کامیاب چیف جسٹس کی اصل پہچان ہوتی ہے، اور یہی وہ میراث ہے جو تاریخ میں دیرپا مقام حاصل کرتی ہے۔