نورِ سحر میں " انسانیت نوازی اور اسلام  " کے موضوع پر روح پرور اور علمی نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام اور مکمل ضابطۂ حیات ہے

Dec 10, 2025 | 11:43:AM
 نورِ سحر میں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع " انسانیت نوازی اور اسلام (زندگی، عزت اور آزادی کا مکمل چارٹر) "تھا۔

پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام نے انسانیت کو جو مساوات، عدل، آزادی اور عزت عطا کی، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی،ان کے مطابق دنیا کا پہلا تحریری ہیومن رائٹس چارٹر میثاقِ مدینہ ہے  جبکہ مغربی انسانی حقوق کا منشور 1948ء میں سامنے آیا۔

انہوں  نے کہا کہ مغرب انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے تو کرتا ہے، مگر عملی طور پر یہ حقوق کم ہی دکھائی دیتے ہیں  اس کے برعکس اسلام نے غلاموں، عورتوں، یتیموں، جانوروں اور غیر مسلموں تک کے حقوق واضح کر کے حقیقی انسانی ہمدردی کا عملی نمونہ پیش کیا۔

پروفیسر سلطان منیر نے کہا کہ اسلام نے چودہ صدیاں قبل انسانیت کو حقیقی مساوات اور بنیادی حقوق کا ایسا نظام دیا جس تک دنیا 1948ء کے یو این ہیومن رائٹس چارٹر میں پہنچی۔

انہوں  نے کہا کہ اسلام نے آغاز ہی میں انسان، حیوانات، نباتات اور کمزور طبقات کے حقوق واضح کیے، جبکہ میگنا کارٹا بھی اسلام کے بعد صدیوں میں نافذ ہوا،انہوں  نے بلال حبشیؓ، اسامہ بن زیدؓ اور غلاموں کی آزادی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قرآن کا مرکزی موضوع انسان ہے اور اسلام نے غلاموں، یتیموں اور عورتوں کے حقوق کا محفوظ نظام پیش کیا

اعجاز احمد نے کہا کہ قرآنِ کریم نے اُس دور میں انسان کی عظمت اور مساوات کا اعلان کیا جب دنیا غلاموں کو انسان بھی نہیں سمجھتی تھی،اسلام نے وہ انقلاب برپا کیا جس نے غلام اور آقا کو ایک صف میں کھڑا کر دیا۔

انہوں  نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوتِ حق کو قریش نے اس وقت چیلنج کیا جب غلام ان کے برابر بیٹھنے لگے، کیونکہ اسلام نے صدیوں پرانی طبقاتی تقسیم کو توڑ دیا تھا۔ بلال حبشیؓ کو فتحِ مکہ کے موقع پر بیت اللہ کی چھت پر اذان کا شرف دینا اس مساوات کی روشن مثال قرار دیا گیا۔

مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ جب انسان الحاد کی طرف جاتا ہے تو انسانیت مٹتی ہے، جس کی مثال سوویت یونین اور عالمی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کی ہلاکت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بگڑے ہوئے مذہبی نظریات بھی ظلم اور انتہاپسندی کو جنم دیتے ہیں، مگر رسول اللہ ﷺ نے دونوں انتہاؤں کا خاتمہ کیا۔

انہوں  نے کہا کہ فتحِ مکہ کی عام معافی اور حجۃ الوداع کا خطبہ انسانی تاریخ کا جامع ترین منشورِ مساوات ہے، جس میں اعلان کیا گیا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام رحمت، عدل اور انسان دوستی کا پیغام ہے، اور سائنس بھی قرآن کے انسانی وحدت کے تصور کی تائید کر چکی ہے۔